قصور کس کا؟؟؟

3

شام ہو رہی تھی، سورج غروب ہو چکا تھا لیکن آسمان پر سورج کی لالی ابھی تک موجود تھی۔ بس کے اندر چھوٹے چھوٹے بلب جل رہے تھے۔ بس کی تیز رفتاری سے مسافروں کی آپس میں باتوں کا سلسلہ منقطع تھا۔ یکایک۔۔۔ ڈرائیور نے اسٹیئرنگ بائیں طرف گھما دیا حالانکہ سڑک سیدھی جا رہی تھی۔ بس سڑک سے اتر کر جنگلے سے ٹکرائی اور پھر اسے روندتی ہوئی 30 فٹ نیچے دریائے جہلم میں جا گری۔

بس میں ایک کہرام مچ گیا۔۔۔ کان پڑی آواز سنائی نہ دے رہی تھی۔بس پانی کے نیچے دلدل میں دھنس گئی۔ پانی تیزی سے بس میں داخل ہو رہا تھا اور مسافر بس سے باہر نکلنے کیلئے ہاتھ پاؤں مار رہے تھے۔

تھوڑی ہی دیر میں پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ 25مسافر بری طرح زخمی تھے اور انہیں ہسپتال پہچانے کی کوششیں ہو رہی تھیں۔ ان میں سے زیادہ تر مسافر بے ہوش تھے، 12 مسافر جو معمولی زخمی تھے خوف اور درد کی شدت سے کراہ رہے تھے۔ 13 مسافر سڑک کے کنارے ان چارپائیوں پر لیٹے تھے جو اہل علاقہ نے مہیا کی تھیں۔ یہ سب خاموش تھے کیونکہ مردے بولتے نہیں۔

ان کی چیخیں بے آواز ہوتی ہیں۔ نسیمہ اور وسیم کا ہنی مون ادھورا رہ گیا، سعدیہ اور شہناز دکھی انسانیت کی خدمت کئے بغیر اس دنیا سے سدھار گئیں، سیٹھ وقار اب اپنی بلڈ شوگر کنٹرول کرنے سے بے نیاز ہے، راجہ شیر زمان کے خیر مقدمی بینر قصہ پارینہ بن گئے تھے۔ ڈرائیور غائب تھا، اس سے پہلے کہ بس جنگلے سے ٹکراتی ڈرائیور کھڑکی سے چھلانگ لگا کر رفو چکر ہو گیا۔

ہر طرف شور و غوغا تھا، ایدھی کی ایمبولینس مسافروں کو ہسپتال شفٹ کر رہی تھی۔ غوطہ خور لاشیں دریا سے نکال کر لنگوٹیوں میں ہی ایک طرف بیٹھے تھے۔ کچھ منچلوں نے دریا میں اتر کر مسافروں کا سامان لوٹ لیا تھا۔ پولیس تفتیش کر رہی تھی۔

اگلے دن اخبار میں ایک چھوٹی سی خبر تھی ’’ٹائی راڈ کھلنے سے بس دریائے جہلم میں جا گری‘‘ ایک ضمنی تھی ’’ 13مسافر ہلاک، 25زخمی، تحقیقات کیلئے کمیٹی مقرر کر دی گئی‘‘ اور پھر نیچے اس بد قسمت بس کے دریا میں گرنے کے حوالے سے ایک روایتی خبر تھی۔ ایسی بہت سی خبریں ہم اخباروں میں پڑھتے رہتے ہیں۔

تین دن بعد مشہور ٹیلی ویژن چینل جیو کے میزبان انجم رشید نے اپنے پروگرام ’’چھوٹی خبر بڑی بات‘‘ میں ایسے حادثوں کو موضوع گفتگو بنایا۔ انجم رشید شرکاء سے ایسے حادثوں کی اصل وجہ کرید رہے تھے اور کوئی انہیں پلو نہیں پکڑا رہا تھا، پنجاب ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے سیکرٹری طارق باجوہ، بس ڈرائیور، پولیس اہلکار اور گاڑیوں کی فٹنس کے مجاز افسر اپنے اپنے انداز میں اس حادثے پر ’’روشنی‘‘ ڈال رہے تھے۔روشنی کیا ڈال رہے تھے، بس سمجھیں کہ واقعے پر مٹی ڈال رہے تھے تاہم ایک بات پر سب متفق تھے کہ ٹائی راڈ کے کھلنے کا ذکر ہر حادثے کے بعد کیا جاتا ہے لیکن یہ وجہ حقیقت سے بہت بعید ہے، پولیس کا نمائندہ کہہ رہا تھا کہ ٹائی راڈ حادثے کے بعد ہتھوڑوں سے توڑا جاتا ہے اور پولیس تفتیش نہیں کر پاتی کیونکہ ایسے حادثات دور دراز علاقوں میں ہوتے ہیں اور ایسا کوئی بندوبست نہیں کہ متعلقہ اتھارٹیز موقع واردات پر پہنچ کر حقائق جان سکیں۔ ساری کارروائی بذریعہ مک مکا غائبانہ ہی مکمل ہوتی ہے۔ ڈرائیور کہہ رہا تھا کہ گاڑیوں کی فٹنس کا سر ٹیفکیٹ گاڑی کا معائنہ کرائے بناء ہی مل جاتا ہے، طارق باجوہ کہہ رہے تھے کہ سچی بات تو یہ ہے کہ ڈیپارٹمنٹ کے پاس گاڑیوں کے معائنے کیلئے جیک ہے نہ ریمپ۔ اخبارات اب ان خبروں کو سنگل کالمی سے زیادہ کی اہمیت نہیں دیتے، یوں انسان اعداد و شمار بن جاتے ہیں اور ان کے کفن میلے ہونے سے پہلے کیس داخلِ دفتر ہو جاتا ہے۔ ایسے سینکڑوں حادثوں کے بعد بھی وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ آج تک کسی کھڑکی سے چھلانگ لگانے والے ڈرائیور کو سزا نہیں ہوئی۔اس پروگرام میں بہت سے سوال اٹھائے گئے لیکن اصل نکتہ جو حادثے کے باعث بنا وہ پسِ پردہ ہی رہا۔

  • 1
  • 2
  • 3
  • اگلا صفحہ:
  • 4
  • 5
  • 6

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments