قصور کس کا؟؟؟

4

یہ فقط اکھڑ خان کی کہانی نہیں، ان گنت گھرانوں کی کہانی ہے، دراصل یہ انسانوں کے ساتھ غفلت برتنے کی کہانی ہے۔ چرس کا استعمال شغل کے طور پر کیا جاتا ہے، %90لوگوں کا یہ شغل زندگی بھر جاری رہتا ہے اور انہیں کوئی منفی نتائج نہیں بھگتنا پڑتے لیکن %10لوگ چرس کی بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ اب چرس انہیں کوئی لطف و سرور مہیا نہیں کرے گی بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نت نئے حادثے مریض کا گھر دیکھ لیتے ہیں۔ مریض ہوش و حواس میں نہیں بلکہ نشے کے بھنور میں پھنسا ہوتا ہے۔ ارد گرد کے لوگ اس بات کا فیصلہ کرنے میں سالوں گزار دیتے ہیں کہ چرس پینے والا واقعی بیمار ہے یا مستی کر رہا ہے؟

آئیے! غور کرتے ہیں کہ ایسے حادثوں کے پسِ پردہ کیا غلطیاں ہیں جو اصل حقائق کو سامنے نہیں آنے دیتیں، جس کی بناء پر یہ حادثے تواتر کے ساتھ پیش آتے رہتے ہیں۔

غلطی:اکھڑ خان چرس کو نشہ ہی نہیں مانتا اوراسی وجہ سے علاج کی ضرورت بھی نہیں سمجھتاجبکہ کمپنی والوں کے خیال میں چرس نشہ تو ہے مگر اتنا مضرنہیں، ان کے نزدیک سبھی ڈرائیور بوریت دور کرنے اور دل بہلانے کیلئے چرس پیتے ہیں اور اس سے کوئی قباحت پیدا نہیں ہوتی۔ ان کا خیال ہے کہ چرس پینے کے بعد ڈرائیور لمبی ڈیوٹی کرتے ہیں، گاڑی لے کر جاتے ہیں اور پھر فورا واپس لاتے ہیں جس سے دوسرے شہر میں قیام و طعام کی ضرورت پیش نہیں آتی اور یوں کمپنی کے اخراجات میں کمی کا باعث بنتے ہیں۔

وضاحت: پاکستان میں لاکھوں افراد چرس پیتے ہیں، چرس کو سوٹا، جوڑا، پکّا، گردا، جلیبی، سٹف، لال پنا، درویشی تحفہ، پرما، فقیری دھواں، شمامہ، روا اور واری کے ناموں سے بھی پکارا جاتا ہے۔ یہ مفروضہ عام ہے کہ چرس ایک بے ضرر نشہ ہے۔ چرس پینے والوں میں سے %10 بہت برے انجام کو پہنچتے ہیں، نا صرف ان کے حواسِ خمسہ متاثر ہوتے ہیں بلکہ بات پاگل پن تک پہنچ جاتی ہے۔ چرس کو بے ضرر نشہ ماننے والے جمیکا میں ہونے والی تحقیق کو بطور سند لاتے ہیں۔ یہ تحقیق 72ء میں کی گئی مگرکوئی بھی سائنس میگزین اسے شائع کرنے پر تیار نہیں ہوا جبکہ ہزاروں شائع شدہ تحقیقات چرس کے مہلک اثرات کو ثابت کر چکی ہیں۔

ڈرائیور چرس پینا ضروری سمجھتے ہیں، اس کے حق میں جو دلائل وہ دیتے ہیں وہ سرُورانگیزی کی ایک ہلکی شکل ہے جو کہ اپنے آپ کو اچھا محسوس کرنے، چہل پہل، خوش گفتاری اور باتونی پن سے ظاہر ہوتی ہے۔ وہ چرس بوریت دور کرنے کیلئے بھی پیتے ہیں۔ ظاہر ہے سفر کے دوران بوریت اور چرس کی حدیں دور تک ساتھ چلتی ہیں۔ چرس سے رنگ، آواز اور ذائقے کی حِس بہتر ہو جاتی ہے اس لیے چرس پینے کے بعد موسیقی کے پروگرام اور مٹھائی اچھی لگتی ہے تاہم چرس کے بیمار ان سب ’’نعمتوں‘‘ سے محروم رہتے ہیں۔

لوگوں کے چرس سے اس قدر گھائل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ آج کی چرس 1960ء کی نسبت قطعی مختلف ہے، اس میں بیمار کرنے کی صلاحیت کئی گنا زیادہ ہے۔ موجودہ چرس میں نشے کا زہریلا عنصر ٹی ایچ سی بہت زیادہ ہے۔ایک عام انسان کے لیے ممکن نہیں کہ وہ خریدتے وقت نشے کی طاقت کا اندازہ کر سکے، صرف پینے سے پتا چلتا ہے کہ چرس میں کتنا دم ہے؟

  • 1
  • 2
  • 3
  • 4
  • اگلا صفحہ:
  • 5
  • 6

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments