قصور کس کا؟؟؟

5

چرس پانی کی بجائے تیل میں گھلنے والا مرکب ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر ایک مرتبہ چرس جسم میں آ جائے تو یہ چربی میں ذخیرہ ہو جاتی ہے، تین دن تک اس کا اثر زور دار رہتا ہے، پوری طرح خارج ہونے میں لگ بھگ 28دن لگتے ہیں۔ کہنے کا مقصد یہ نہیں کہ وہ شخص اس دوران سرور میں رہے گا بلکہ یہ کہ چرس کے 421کیمیکلز اس کے دل و دماغ پر مسلط رہیں گے اور اس کے طور طریقوں اور رویوں کو اجنبی بناتے رہیں گے۔ چونکہ چرس اور چربی میں چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے اس لیے یہ دماغ میں بسیرا کر لیتی ہے۔

محض چرس پینے اور چرس کا مریض ہونے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اگر چرس پینے والا کوئی بندہ دوسروں کیلئے ناقابلِ برداشت ہو جائے تو بات یقیناًشغل سے آگے بڑھ کے مرض کی سرحدوں میں داخل ہو چکی ہے۔ سائنس اب یہ بات ثابت کرتی ہے کہ چرس کا مرض جسم میں کچھ حقیقی تبدیلیاں رونما ہونے کے بعد پیدا ہوتا ہے، اور صحت یابی کیلئے چرس چھوڑنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہتا۔

غلطی:ٹائی راڈ کھلنے سے بس دریائے جہلم میں جا گری۔‘‘
وضاحت: ایسے ہر حادثے کے بعد ٹائی راڈ کا ذکر آتا ہے اور لوگ سوچتے ہیں کہ آخر اتنا کمزور پرزہ بسوں میں کیوں لگاجاتا ہے؟ حقیقتِ حالت یہ ہے کہ کسی بس کے ٹائی راڈ کھلنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں اور یہ ایک ڈھکوسلہ ہے جو پردہ پوشی کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ہم نے انٹرنیٹ پر بسیں بنانے والی تمام مشہور و معروف کمپنیوں سے اس بارے میں استفسار کیا تو انہوں نے ٹائی راڈ ٹوٹنے کو ناممکنات میں سے بتایا۔

ٹائی راڈ اصل میں کسی بس کا نہیں کھلتا بلکہ ڈرائیور کے دماغ کا کھلتا ہے، جس کے بعد وہ ایک دو لمحے کیلئے ڈرائیونگ پر کوئی قابو نہیں رکھ سکتااور انہی لمحوں میں حادثہ ہوتا ہے۔ نشے کی بیماری میں چرس جسم میں جا کر کچھ زہریلے مادے بناتی ہے جو دماغ کو وقتی طور پر ایسی کیفیت میں مبتلا کر دیتی ہے جس میں بصارت اور سماعت پر انتہائی برا اثر پڑتا ہے۔ مثلا اس حادثے میں زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ ڈرائیور کے سامنے جو سیدھی سڑک تھی وہ یکدم بائیں طرف تیزی سے مڑتی ہوئی نظر آئی جس کی بناء پر اس نے سٹیئرنگ کو بائیں طرف موڑا، بس جنگلے سے ٹکرائی اور انہی لمحات میں ڈرائیور کی حاضر دماغی واپس آئی اور اس نے کھڑکی سے چھلانگ لگا دی۔ضروری نہیں کہ سب کچھ بالکل اسی طرح ہوا ہو لیکن قرینِ قیاس یہی ہے۔

چرس کا زہریلا کیمیکل ٹی ایچ سی دماغ کی سطح پر جم جاتا ہے جس سے نا صرف مختلف خلیوں کو تال میل پیدا کرنے میں دشواری پیش آتی ہے ، چرس پینے والے بولتے بولتے درمیان میں بھول جاتے ہیں کہ وہ کیا کہہ رہے تھے۔ ردِّعمل کا وقت مختصر ہو جاتا ہے اور کام کاج میں ٹائمنگ متاثر ہوتی ہے۔

  • 1
  • 2
  • 3
  • 4
  • 5
  • اگلا صفحہ:
  • 6

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments