قصور کس کا؟؟؟

6

غلطی:یہ سمجھ لینا بھی غلط ہے کہ حادثہ ڈرائیور کو اونگھ آجانے کی وجہ سے ہوتا ہے۔
وضاحت:پیشہ ور ڈرائیوروں کو اونگھ آنا قرینِ قیاس نہیں، عام لوگ بھی اگر لمبے روٹ پر ڈرائیونگ کریں تو انہیں اونگھ آنے کا امکان کم ہوتا ہے کیونکہ ڈرائیونگ میں مسلسل کچھ ایسے اقدامات کرنے پڑتے ہیں جن کی وجہ سے نیند آنا ممکن نہیں تاہم اگر ایسا ہو بھی تو حادثہ سڑک پر رہتے ہوئے کسی دوسری گاڑی سے چھو جانے یا الجھ جانے کی صورت میں رونما ہوتا ہے۔ چرس پینے والے پیشہ ور ڈرائیور نیند کے معاملے میں ویسے بھی تہی دامن ہوتے ہیں اور اگر وہ چرس کی بیماری میں مبتلا ہوں تو نیند ان سے ویسے ہی دور بھاگتی ہے۔

غلطی: اکھڑ خان چرس کا نشہ کرنے کے بعد چڑچڑا ہوجاتا ہے، کسی نہ کسی سے جھگڑتا ہے اور پھر لمبے روٹ پر ڈرائیونگ
کرنے کیلئے چلا جاتا ہے۔ یہ اس کا تیسرا حادثہ تھا۔ اس کی حالت روز بروزبگڑتی جا رہی ہے،چرس کی وجہ سے اُس کی سوچنے کی صلاحیت بھی جاتی رہی، اس کے باوجود ٹرانسپورٹ کمپنی نے اُسے ایک اہم ذمہ داری سونپ دی۔اصل غلطی نشے کی بیماری کو ’’کیمو فلاج‘‘کرنا ہے۔

وضاحت:ٹرانسپورٹ کمپنی والے چرس کو معمولی نشہ سمجھتے ہیں۔ اکھڑ خان کی نفسیاتی تبدیلیوں کو چرس سے منسلک نہیں سمجھتے۔ وہ اسے محض اکھڑ مزاج سمجھتے ہیں، افسران بالا کو معلوم تھا کہ چرس کے نشے میں اکھڑ خان پاگل پن کی حدوں کو چھو رہا ہے،اس کے باوجود اسے روزانہ ایک نہایت اہم ذمہ داری دے دی جاتی ہے۔ یوں وہ اسے روزانہ یہ موقع دیتے ہیں کہ وہ بہت سے مسافروں کی زندگی کو خطرے میں ڈال دے اور کبھی کبھی وہ ایسا کر بھی گزرتا ہے۔ جب ایسے حادثے ہوتے ہیں تو ٹرانسپورٹ کمپنی، ڈرائیور، پولیس اور مجاز افسران چرس کا ذکر بیچ میں نہیں آنے دیتے، ایسے لگتا ہے جیسے سب کے درمیان ایک خاموش معاہدہ ہے جس کے تحت وہ چرس کو تحفظ دینے کے پابند ہیں۔جس طرح پاکستان نارکوٹکس کنٹرول بورڈ ٹنوں کے حساب سے چرس پکڑتا ہے ، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کئی گنا زیادہ چرس معاشرے میں استعمال ہوتی ہے۔یوں کہہ لیں کہ چرس کیلئے ہمارے معاشرے میں نرم گوشہ بہت وسیع ہے۔

اکھڑ خان کا اپنے سپر وائزر سے جھگڑا ہوا، اپنے دوست ڈرائیوروں کے سامنے وہ سپروائزر کے خلاف زہر اگلتا رہا اور پھر بظاہر پر سکون ہو گیا۔ دوسرے لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ ’’ٹھیک‘‘ ہو گیا ہے اور سفر کے قابل ہے۔ ایک دفعہ شدید جھگڑا کرنے کے بعد مریض کچھ دیر کے لئے پر سکون ہو جاتا ہے اور یوں حالات بظاہر ٹھیک نظر آتے ہیں لیکن اندر ہی اندر مریض بے چین رہتا ہے۔ ظاہر ہے وہ پھر نشہ کرتا ہے جس سے چڑچڑے پن اور تشدد کا ایک اور دورہ پڑ سکتا ہے۔ اکھڑ خان کے ساتھ بھی یہی ہوا، کھاریاں میں گاڑی روکنے کے بعد اس نے تیز ترین چرس پی جس کے نتیجے میں یہ حادثہ رونما ہوا۔

اکھڑ خان میں چرس کی بیماری کی سب علامتیں عیاں تھیں مگر سپر وائزر اور انتظامیہ نے آنکھیں بند کر رکھی تھیں، وہ لاشعوری طور پر حقائق کو تسلیم نہیں کر رہے تھے۔ کمپنی والوں کو اس خود فریبی سے باہر آنے کی ضرورت تھی اور اکھڑ خان کو اچھے علاج کی۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments