گھر سے فرار کی وجوہات

2

بد قسمتی سے اس کے نتیجے میں ان کی زندگی میں پہلے سے بھی زیادہ سے تکالیف اور مشکلات جنم لے لیتی ہیں جس میں منشیات ، جنسی استحصال ، تعلیمی دنوں کا نقصان اور ترقی و کامیابی کے مواقعوں کا ضائع ہونا شامل ہے۔ زیادہ تر گھر سے بھاگنے کے عمل کے پیچھے شرم کا عنصر کار فرما ہوتا ہے ۔ ایسی شرم کا تعلق غربت ، استحصال،گھر میں کسی شخص کا نشے میں مبتلا ہونا اور اسی طرح کی کئی دوسری وجوہات سے ہوتا ہے۔نا بالغ فرد جسمانی فرار سے پہلے جذباتی ، نفسیاتی اور روحانی فرار کا شکار ہوتے ہیں۔
گھر سے بھاگ جانے کے پیچھے اور بھی عوامل موجود ہوتے ہیں جن میں استحصال ، اہل خانہ میں سے منشیات کا غلط استعمال، تصادم ، سماجی دباؤ، خاندان میں کسی نئے فرد کی آمد، دھمکی، تعلقات میں مشکلات، خاندان میں توڑ پھوڑ اور اکیلا پن شامل ہے۔
بعض اوقات فرد گھر سے اس لئے بھی بھاگتا ہے کیونکہ وہ محسوس کرتا ہے کہ گھر اس پر تنگ پر گیا ہے، یہاں کوئی اس سے پیار نہیں کرتا، گھر والے اس کو نظر انداز کرتے ہیں اور اسی طرح کے بہت سے مسائل اس کے ذہن میں ہوتے ہیں جبکہ وہ ایک بہتر زندگی گزارنا چاہتا ہے تاہم مسائل کا آخری حل اس کو گھر سے بھاگ جانا ہی نظر آتا ہے ۔
بد قسمتی سے والدین ، بچے کی خواہشات کو نظر انداز کرتے ہیں اور ان پر اپنا پسندیدہ طرز زندگی مسلط کرتے ہیں۔ جس کو اپنانے کے لئے بچے پر بہت دباؤ ڈالا جاتا ہے اور اسی کے نتیجہ میں بچے امیدوں پر پورا اترنے کے لئے بہت زیادہ بوجھ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اور اگر کم نصیبی سے وہ والدین کی امیدوں پر وہ پورا نہ اتریں تو ان کو ناکامی کا تمغہ دے دیا جاتا ہے اس طرح بچے کی تخلیقی صلاحیتیں دفن ہو جاتی ہیں۔
گھر سے بھاگنے کی وجوہات کو مد نظر رکھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں جسمانی اور ماحولیاتی دونوں عناصر شامل ہیں۔ جب خاندانوں میں آگاہی اور شعور پیدا کرنے کی بات کی جاتی ہے تو سب سے پہلا اور اہم کام رابطے میں خلا کا پر کرنا ہے۔ ضرورت اس با ت کی ہے کہ ہم ایک دوسرے کی بات کو غور سے سنیں اور ہمیشہ فیصلہ اپنے جذباتی دماغ کے بجائے عقلی دماغ سے کریں اس کے علاوہ بات چیت کے دوران ہمیں اپنے غصے کی بوچھاڑدوسرے پر نہیں چاہئے۔ اپنے سامنے والے کو ضرور بتائیں جو بات آپ نے اس کے بارے میں مشاہدہ کی ہے لیکن اس کی شخصیت کو نشا نہ نہ بنائیں۔ گفتگو کے دوران “تم “کے بجائے “میں”کا صیغہ استعمال کریں۔ کیونکہ الزام تراشی بات چیت کو جاری رکھنے میں مدد گار ثابت نہیں ہوتی ۔
فرار کے بارے میں کچھ غلط عقائد بھی رائج ہیں ان میں سے جو زیادہ مشہور ہے کہ “جو بچے بھاگ جاتے ہیں وہ اپنے بارے میں خود فیصلہ سازی کرتے ہیں انہیں جانے دینا چاہئے تاکہ وہ اپنے بارے میں خود انتخاب بنائیں اور نتائج کے ذمہ دار خود بنیں”اگر وہ گھر واپس آنا چاہیں تو آ سکتے ہیں ۔ یہ غلط عقیدہ ایک جھوٹے فرضیہ پر بنا ہے جس کے اثرات اور بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں ۔ جبکہ بھاگنے والا بچہ پہلے ہی خطرے سے دوچار ہوتا ہے ۔ یہ ایک جھوٹا فرضیہ ہے نا بالغ ، حقیقی فیصلہ سازی کر سکتا ہے اور اپنے لئے احتیاط سے لائحہ عمل تیار کر سکتا ہے جبکہ سچ تو یہ ہے بلوغت کی عمر میں بچے کا دماغ اب تک نشو نماء کے مراحل سے گزر رہا ہوتا ہے جس کے باعث بہت ہی کمزور فیصلہ سازی اور جذباتیت مشاہدہ میں آتی ہے ۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments