گھر سے فرار کی وجوہات

3

اگر کوئی فرد بھاگنے کے متعلق سوچ رہا ہو تو اس کے اردگرد بہت سی تبدیلیاں دیکھی جا سکتی ہیں جیسے کہ اس کے کھانے اور سونے کے انداز میں تبدیلی واقع ہو گی، مزاج میں زبردست اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آئے گا، سکول میں نامناسب رویہ، سکول کی حاضری میں نمایاں کمی، پیسے جمع کرنا، قیمتی اشیاء دوسروں کو دے دینا اور فرد اس طرف اشارہ کرتا ہوا نظر آئے گا کہ اگر میں چلا جاؤں تو کوئی مجھے یاد نہیں کرے گا یا کسی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ فرار حاصل کرنے کی بنیاد تک پہنچا جائے، بھاگنے والے افراد میں عموماََ مختلف مسائل پائے جاتے ہیں جیسے بے چینی، تشویش ، adjustment disorder ، ذات کی تحقیر محسوس کرنا، ذہنی دباؤ، غصہ، تشدد اور مزاج کی بیماریاں مثلاََ ڈپریشن اور بائی پالر ڈس آرڈر وغیرہ وغیرہ۔

جیسے کسی نا بالغ بچے کی زندگی میں فرار کے آثار نظر آئیں تو ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ صحیح انداز میں تشخیص کی جائے اور ان کے ساتھ بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔ بجائے ان کو سزا دینے کے ان کی مدد کی جائے۔ اگر وہ آپ سے کھل کر بات نہیں کر پا رہا۔ تو کسی ماہر نفسیات، سکول کی مشاورتی کونسل، استاد یا کسی اثر و سوخ والے رشتہ دار سے رابطہ کریں۔
فرار کرنے والے فرد کے حقیقی مسائل سے پردہ اٹھانا چاہیئے کہ کہیں کوئی نفسیاتی بیماری یا ذہنی، جذباتی اور جنسی استحصال تو وہ بچہ برداشت کرنے پر مجبور نہیں ہے؟

یہ بھی ممکن ہے کہ ماں باپ کا تربیت کا انداز بچوں کو باغی بنا رہا ہو، بہت زیادہ کنٹرول کیا جا رہا ہو یا پھر دوسری طرح sick love یعنی بیمار محبت اس کی شخصیت میں بگاڑ کا باعث ہو۔

اس کے علاوہ سکول میں بھی کوئی مسلہ درپیش ہو سکتا ہے۔ سکول میں مزاق اڑایا جائے، ذہنی، جنسی طور پر ہراساں کیا جائے، لڑائی جھگڑا، استحصال یہاں تک کہ کسی کو بے جا تنگ کرنا بھی اس کے بھاگنے کا سبب بن سکتا ہے۔

فرار کا سبب گھر کا ماحول ہو یا سکول کا اس کے اسباب کو ایمانداری سے تسلیم کرنا چاہیئے اور بچے کے ذہن سے بے یارو مددگار ہونے کے احساس کو ختم کرنا چاہیئے۔ اس کو اپنی غیر مشروط محبت کا یقین دلانا چاہیئے آپ ایسے بچے کو گلے لگائیں، تعریف کریں اور مثبت کردار کو تقویت دیں۔ غصہ بھی آئے تو مثبت انداز گفتگو اختیار کریں اور اس کو احساس دلائیں کہ فرار حاصل کرنا اس کے مسائل کو حل کرنے کی بجائے کئی گنا بڑھا دے گا۔ بیمار محبت بھی شخصی بگاڑ کی بڑی وجہ ہے۔ ضرورت سے زیادہ آزادی بھی فرد کو باغی بنا دیتی ہے۔ لہذٰا توازن قائم کریں اور محبت کے صحت مند اصول قائم کریں تاکہ بچہ بے راہ وری سے بچ سکے۔ اسی طرح اپنے اصولوں پر وقتاََ فوقتاََ نظر ثانی کرتے رہیں۔ بچے کی زندگی میں نئی نئی دلچسپیاں پیدا کریں۔ اسے کسی مشغلے کی طرف راغب کریں اور اس کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments