خوشی کے حصول کی بے شمار شکلیں ہیں۔ ہر انسان اپنی طبیعت کے مطابق چیزوں اور باتوں سے خوش ہوتا ہے۔ خوشی کے لیے طبیعت کی مناسبت لازمی شرط ہے۔ بعض لوگ کتابیں پڑھنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں، کچھ لوگ کھیلنے میں، ٹی وی دیکھنے اور اپنے دوستوں، رشتہ داروں کے ساتھ بات چیت کر کے اور گھومنے پھرنے میں گزار دینے میں خوشی محسوس کرتے ہیں اور ساری زندگی اسی میں مگن رہتے ہیں جبکہ بہت سے آدمی صبح سے لے کر شام تک محنت کرنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں اور اس میں خوش رہتے ہیں۔ مناسب طبع کے علاوہ دوسری شرط خوشی کے حصول کے لیے انسان کی اچھی ذہنیت ہے۔

upper

Sarah Cotterill

شہزاد رحمت صداقت کلینک لاہور میں اپنی خدمات ’’اسسٹنٹ ٹو ڈائریکٹرکے طور پر سرانجام دے رہے ہیں وہ گریجویشن کے بعد 1998 میں صداقت کلینک سے منسلک ہوئے اور آج بھی یہاں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
وہ مریضوں کے ساتھ نشے کی بیماری (Disease Concept) ریلیپس (Relapse) ،ریکوری (Recovery) اور نارکوٹک انانومس کے بارہ قدم پروگرام(12-Step) کے موضوعات پر گروپ کاؤنسلنگ اور سیشن بھی کرتے ہیں۔

lower

سوچ اچھی نہیں ہے تو خوشی کبھی حاصل نہیں ہو سکتی اور منفی سوچ کے حامل لوگوں کے لیے خوشی محسوس کرنا مشکل کام ہے۔ وہ اپنی سوچ کے مطابق اس دنیا میں کامیاب ہو بھی جائیں انھیں اس دنیا میں سب کچھ حاصل ہو بھی جائے تب بھی ان کو حقیقی خوشی حاصل نہیں ہو سکتی۔

اگر آپ ہر وقت اپنے آپ کو تنہا اور اداس محسوس کرتے ہیں اور خوشی کے متلاشی ہیں تو کچھ طریقوں پر عمل پیرا ہو کر آپ خوشی حاصل کر سکتے ہیں

1۔مثبت انداز فکر
دراصل خوشی اور غم جیسے احساسات صرف ہماری ذہنی سوچ سے منسلک ہیں اگر ہم مصائبِ زندگی کو مثبت اور پرسکو ن انداز میں لیتے ہیں تو یہ حل ہوتے نظر آئیں گے یہ ہماری ذہنی نشوونما کا باعث بنتے ہیں جب بھی ہم کسی مسئلے کا حل تلاش کرتے ہیں تو ایسے لگتا ہے جیسے کو ئی پہیلی بوجھ لی ہو ہمارا دل ایسی ہی مسرت سے بھر جاتا ہے جیسی بچپن میں پہیلی بوجھ کر خوشی حاصل ہوتی تھی اپنے پر فخر محسوس ہوتا ہے اور فرض کریں مسئلے کا حل نا بھی ملے تو بھی دل و دماغ اس بات پر مطمئن ہوتا ہے کے ہم نے حوصلے اور ہمت سے مشکل کا مقابلہ کیا اور کچھ ہی عرصہ بعد وہ مشکل کچھ مشکل نہیں لگتی مثبت بلکہ انداز فکر سوچوں میں نکھار پیدا کرتا ہے۔

۲۔مصروفیت
دنیا بھر کے ماہر نفسیا ت کا تجزیہ ہے کہ مصروف لوگ عموماً سست اور بیکار لوگوں کی نسبت زیادہ خوش اور مطمئن ہوتے ہیں۔ دراصل مصروفیت انہیں اداس ہونے کا موقع ہی نہیں دیتی گھر ہو یا دفتر ہر جگہ کام میں دلچسپی لی جائے، کام کو مشغلہ سمجھ کر کریں وہ گھر کی صفائی ستھرائی ہو یا دفتر کا کوئی اہم پراجیکٹ اگر کوشش اور شوق سے کیا جائے گا تو کامیابی کے ساتھ ساتھ مسرت بھی یقنیی طور پر ملتی ہے دراصل کام کی تکمیل میں ہی خوشی ہے۔

  • 1
  • اگلا صفحہ:
  • 2