ٹونی رابنز کے ساتھ گفتگو

2

اگر آپ آہستہ آہستہ اپنا وزن گھٹائیں مثلاََ ہر ہفتے 1/2 سے 1 پاؤنڈ، ورزش میں توازن رکھیں اور آرام، تعلق اور کنٹرول کا بھی کوئی بہتر متبادل تلاش کر لیں تو آپ زیادہ بہتر طور پر اپنا وزن کر سکیں گے۔ یہ وزن کم کرنے اور اسے برقرار رکھنے کا ایک طویل مدتی ممکنہ منصوبہ ہے جو کہ قدرے آسان بھی ہے۔ آپ جس ٹی وی پروگرام کا ذکر کر رہے ہیں جس میں 14 میں سے 13 افراد نے دوبارہ سے وزن بڑھا لیا، اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ ان افراد نے عارضی طور پر اپنا وزن بھوکا رہ کر اور سخت ورزش سے صرف اس لئے کم کیا ہو گا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اس کے بعد وہ ٹی وی پروگرام میں شرکت کریں گے۔ کوئی بھی شخص تمام عمر اس روٹین کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتا۔ میں ایک اور بات پر بھی یقین رکھتا ہوں جو کہ اتنی عام نہیں ہے کہ کچھ لوگ تھائی رائیڈ کی خرابی کی وجہ سے بھی وزن کم نہیں کر پاتے۔ لہٰذا وزن کم کرنے والے افراد اپنے تھائی رائیڈ کے ٹیسٹ بھی ضرور کروائیں اور کسی ماہر سے مشورہ بھی کریں۔
resiliency

وزن کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے ڈاکٹر صداقت علی کی یہ ویڈیو دیکھیئے۔

مارٹی نیمکو: ایسے بھی بہت سے افراد ہیں جو اپنی زندگی میں بہت بار وزن کم کرنے کی کوششیں کر چکے ہیں اور اب وہ ہمت ہار چکے ہیں۔ ان لوگوں کو آپ کیا مشورہ دیں گے؟

ٹونی رابنز: دراصل انسان فطری طور پر خوشی حاصل کرنا چاہتا ہے اور تکلیف سے بچنا چاہتا ہے لہذٰا جب ہم اپنے مقاصد میں ناکام ہو جاتے ہیں تو ہم مستقبل میں ہونے والی ناکامی سے خود کو بچانے کی کوشش کرنے لگ جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے ہم دوبارہ سے اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کی جدوجہد چھوڑ دیتے ہیں اور اپنے قوت ارادہ، تعلیم وتربیت، عقل و ذہانت یا پھر شکل و صورت کو الزام دینے لگتے ہیں کہ شاید مجھ میں ہی کوئی کمی ہے۔ ہمیں کسی بڑے مقصد کے لئے جینا چاہیئے۔ وہ مقصد اولاد، کاروبار یا فلاحی کام وغیرہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ایسے مقاصد ہمیں کامیابی حاصل کرنے میں حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ کامیابی کے لئے محض حکمت عملی ہی کافی نہیں ہوتی۔
انٹرنیٹ پر کامیاب کاروبار سے لے کر کسی سے کامیاب ملاقات تک ہر چیز کے بارے میں شاندار حکمت عملی موجود ہے۔ لیکن حکمت عملی کے ساتھ ساتھ خود کو مثبت پیغامات دینا بھی بہت اہم ہے۔ یہ سوچنا کہ میں سب کچھ کر کے دیکھ چکا ہوں اور اب کچھ نہیں ہو سکتا ہمیں ناکامی کی طرف دھکیلتا ہے۔ مثبت پیغام سے مراد یہ سوچنا کہ ناکامی بھی زندگی کا حصہ ہے لیکن کامیاب لوگ تب تک ہار نہیں مانتے جب تک کہ وہ کامیابی کا راستہ تلاش نہیں کر لیتے۔ کامیابی کا تیسرا پہلو ہے ہماری ذہنی کیفیت۔ کامیابی حاصل کرنے کے لئے ہمیں خود کو مایوسی یا غصے کی ذہنی کیفیت سے نکال کر ثابت قدمی، عزم، کشادہ دلی اور تجسس کی ذہنی کیفیت میں لانا ہو گا۔ ہم جتنا زیادہ منفی کے بجائے مثبت سوچ رکھیں گے اتنے ہی بہتر فیصلے لے سکیں گے اور اسی طرح مثبت سوچ ہماری عادت میں شامل ہو جائے گی۔ ہمت ہار کر بیٹھ جانا ایک فطری عمل ہے لیکن ہمارا جذبہ ہی ہمیں آگے بڑھنے اور کوشش کرنے میں مدد دیتا ہے۔

میں اس بات کو مزید مخصوص انداز میں کہنا چاہوں گا۔ میں نے مندرجہ ذیل اقدامات پر خود بھی عمل کیا ہے اور لاکھوں لوگوں کو بھی اس کا مشورہ دیا ہے۔

1) جب تک آپ منفی سوچوں کو بڑھاوا دینا نہیں چھوڑیں گے تب تک آپ کی ذہنی کیفیت بھی مثبت نہیں ہو گی۔ دن میں کم از کم آدھے گھنٹے کے لئے کتاب کا مطالعہ کریں یا گاڑی چلاتے ہوئے یا گھر کی صفائی وغیرہ کرتے ہوئے کتابوں کی آڈیو ریکارڈنگ سنیں۔ کامیاب اور عظیم شخصیات کی زندگی پر لکھی ہوئی کتابوں نے مجھے یہ سکھایا ہے کہ مشہور اور معروف لوگوں کو بھی ناکامی کا سامنا ہوا لیکن وہ کبھی ہمت نہیں ہارے اور آگے بڑھتے رہے۔

  • 1
  • 2
  • اگلا صفحہ:
  • 3

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments