ٹونی رابنز کے ساتھ گفتگو

3

2) روزانہ ورزش کریں، چاہے وہ دن میں دو چار بار پانچ یا دس منٹ کی چہل قدمی ہی کیوں نہ ہو۔ یہ عمل آپ کے غصے اور خوف کو ثابت قدمی اور ہمت میں تبدیل کر دے گا۔ حرکت سے جذبات میں تبدیلی آتی ہے۔ تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ محض دو منٹ کے لمبے گہرے سانس یا پھر صرف مسکرا دینے سے ہی مثبت جسمانی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں مثلاََ ذہنی تناؤ کے ہارمون کارٹی سول میں 15% کمی آنا، مزاج خوشگوار ہو جانا، غصے میں کمی آنا، پرسکون محسوس کرنا وغیرہ۔

3) کامیاب اور مثالی شخصیات کو اپنا رول ماڈل بنائیں، خاص طور پر ان شخصیات کو جنہوں نے اپنی تمام زندگی میں جدوجہد کی اور بہت دیر بعد کامیابی حاصل کی۔ ان کی زندگی کی کہانی اور حکمت عملی آپ کے لئے کار آمد ثابت ہوسکتی ہے اور اگر ایسا کوئی شخص آپ کی حقیقت میں رہنائی بھی کر لے تو یہ تو اور بھی اچھا ہے۔

4) بڑے پیمانے پر اقدامات لیں۔ بہت سے لوگ جب تک سب کچھ آزما کر نہ دیکھ لیں تب تک انہیں مسئلے کا حل نہیں ملتا لہٰذا جب تک آپ کی مہارت ادھوری ہے تب تک سیکھتے رہیں۔ ایک سائنسدان جیسی سوچ رکھیں اور مسئلے کے حل کے لئے مختلف حکمت عملی تلاش کرتے رہیں۔
public-speaking
5) کسی ایسے شخص کو تلاش کر یں جس کی زندگی کے حالات آپ سے بھی مشکل ہوں اور اس کی مدد کریں۔ یہ آپ کی زندگی کو بامعنی بنا دے گا۔ میرے ادارے نے لاکھوں غریب لوگوں کو کھانا فراہم کیا ہے اور ابھی بھی ہماری کوشش جاری ہے۔

کامیابی حاصل کرنے کے لئے وائٹل بیہیویئر کون سے ہیں؟ ڈاکٹر صداقت علی کی ویڈیو دیکھیئے۔

مارٹی نیمکو: آپ لوگوں کو جذبات پر قابو پانے کا مشورہ دیتے ہیں مثلاََ غصے یا غم کی بجائے آپ عملی کام کرنے کا مشورہ دیتے ہیں ایک لمبے عرصے تک غصے میں رہنے والے یا غمگین افراد کو آپ کیا مشورہ دیں گے؟

ٹونی رابنز: ہم سب کے پاس ایک جذباتی راستہ ہوتا ہے جس پر ہم بار بار گامزن ہوتے رہتے ہیں۔ اگر ایک ایسے شخص کو جو فطری طور پر غصیلا یا غمگین ہو، اچھا خاندان یا اچھی نوکری بھی مل جائے تب بھی وہ اپنے جذباتی راستے پر جائے گا، خاص طور پر جب وہ زندگی میں کوئی مشکل وقت دیکھے گا۔ میں کچھ بھی کرنے کیلئے مثبت طرز عمل اور شکر گزاری کی راہ پر گامزن کرنے کا قائل ہوں۔ یہ کرنے کے لئے میں ہر صبح دس منٹ کی ایک مشق کرتا ہوں۔ سب سے پہلے میں کچھ لمبے گہرے سانس لیتا ہوں۔ اس کے بعد میں اپنی زندگی کے تین ایسے لمحات پر غور کرتا ہوں جن کے لئے میں بہت شکرگزار ہوں اور پھر ان کو محسوس بھی کرتا ہوں۔ اس کے بعد اپنے جسم کو مضبوطی کی طرف راغب کرتا ہوں تاکہ میں دوسروں کی خدمت کر سکوں۔ آخر میں میں تین ایسے مقاصد کے بارے میں سوچتا ہوں جن کو میں نے اس دن حاصل کرنا ہو اور اس طرح میں اپنے ہر دن کا آغاز کرتا ہوں۔ ہر روز یہ عمل دہرانے سے میں ان چیزوں کی طرف زیادہ راغب ہوتا ہوں جن کو حاصل کر کے میں شکر ادا کر سکوں اس کا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ مجھے کبھی غصہ نہیں آیا یا میں کبھی خوف زدہ نہیں ہوا، چونکہ میں خود کو مثبت جذبات کی طرف راغب رکھتا ہوں اسی لئے میں خود سے اور دوسروں کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش کرتا ہوں۔

غصے پر کیسے قابو پایا جائے؟ جاننے کے لئے ڈاکٹر صداقت علی کی ویڈیو دیکھیئے۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments