وزن میں کمی، پیشے اور عوامی فن تقریر میں کامیابی پر مشورے

چالیس لاکھ لوگ ٹونی رابنز کی شخصیت میں بہتری کے متعلق تقاریر میں شرکت کر چکے ہیں۔ 50 لاکھ لوگ ان کی لکھی ہوئی کتابیں اور تقاریر کی ریکارڈنگ خرید چکے ہیں۔ آپ بل کلنٹن، مدر ٹریسا، اوپرہ، ملکہ ڈیانا اور نیلسن منڈیلا جیسی معروف شخصیات کے کنسلٹنٹ بھی رہ چکے ہیں۔ آپ پر حال ہی میں ایک دستاویزی فلم “آئی ایم ناٹ یوئر گورو”بھی بنی ہے۔

upper

Dr-Martin-Nemko

ڈاکٹر مارٹن نیمکو امریکہ میں مقیم ایک کالم نگار، کیرئیر کوچ، مصنف اور ریڈیو کے میزبان ہیں جو ان لوگوں کے ساتھ کام کرتے ہیں جن کو اپنی ذاتی زندگی یا پیشے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ آپ “سائیکالوجی ٹوڈے” کے ساتھ باقاعدگی سے کام کرتے ہیں اور ماضی میں “ٹائم میگزین,یو ایس نیوز، اے او ایل اور سان فرانسیسکو کرانیکل” میں بھی فرائض انجام دے چکے ہیں۔ مارٹن نے کیلی فارنیا یونیورسٹی سے ایجوکیشنل سائیکالوجی میں پی ایچ ڈی کی۔ آپ سات کتابیں لکھ چکے ہیں اور آپ کے لکھے ہوئے دو سو سے زائد آرٹیکل بھی شائع ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مشہور مقررین، کامیاب کاروباری شخصیات اور کیرئیر کوچ کے انٹرویو لئے ہیں۔ ٹونی رابنز بھی انہی میں سے ایک امریکن اسپیکر اور مصنف ہیں جن کا مارٹن نیمکو نے انٹرویو لیا۔
ایڈیٹر: اقرا طارق

lower

مارٹی نیمکو: امریکی عوام کی اکثریت موٹاپے کا شکار ہے اور پرہیز کے باوجود ان کا وزن دوبارہ سے بڑھ جاتا ہے۔ حال ہی میں ایک ٹیلی ویژن کے پروگرام “دا بگ لوزر” میں کی گئی تحقیق کے مطابق یہ بات سامنے آئی کہ شاندار رہنمائی کے باوجود 14 میں سے 13 افراد کا وزن دوبارہ سے بڑھ گیا۔ آپ ان 13 افراد کو کیا مشورہ دیں گے؟

ٹونی رابنز: جب کوئی شخص وزن کم کرنے کا سوچے یا پھر سگریٹ چھوڑنے کا سوچے، تو اسے جسمانی اور نفسیاتی دونوں پہلوؤں کو مدنظر رکھنا چاہیئے۔ اگر ہم نفسیاتی پہلو کی بات کریں تو کسی بھی شخص کو اپنا مقصد یہ ہر گز نہیں بنانا چاہیئے کہ “مجھے فلاں کلو وزن کم کرنا ہے” بلکہ اس کا مقصد یہ ہونا چاہیئے کہ “مجھے اپنی شناخت دوبارہ حاصل کرنی ہے”۔ اپنی اصل شناخت اور پہچان حاصل کرنے کا مقصد نسبتاََ زیادہ حوصلہ افزائی فراہم کرتا ہے۔ لہٰذا وزن کم کرنے والے افراداپنے آپ سے ہمیشہ یہ پوچھیں کہ “میں وزن کم کر کے کیا پہچان حاصل کروں گا؟”
problemsنفسیاتی پہلو پر ہی مزید بات کرتے ہوئے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ بہت سے لوگوں کے لئے کھانا آرام، گہرے تعلق اور کنٹرول کا ذریعہ بھی ہوتا ہے۔ کنٹرول کا ذریعہ اس طرح سے ہوتا ہے کہ کھانے کو دیکھ کر وہ خود پر قابو نہیں رکھ پاتے اور اس سے پرہیز کرنا ان کے لئے مشکل ہو جاتا ہے۔ لہٰذا کھانے کی بجائے انہیں آرام، تعلق اور کنٹرول کے زیادہ با اختیار ذریعے تلاش کرنے چاہئیں مثلاََ کوئی تخلیقی کام کرنا، دوسروں کی مدد کرنا، کسی فلاحی ادارے میں رضاکارانہ طور پر کام کرنا وغیرہ۔ دوسری جانب اگر جسمانی پہلو کی بات کی جائے تو ایک بات کو یاد رکھنا چاہیئے کہ جب کوئی وزن کم کرنے کی خاطر خود کو شدید بھوکا رکھتا ہے تو جسم کا تحفظاتی نظام جسم میں موجود کیلوریز کو بہت سست رفتار میں ضائع کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے وزن کم کرنا اور بھی مشکل ہو جاتا ہے اور جب آپ وزن کم کرنے کی خاطر انتہائی سخت قسم کی ورزش کرتے ہیں تو امکان ہوتا ہے کہ آپ بہت جلد ورزش چھوڑ دیں گے کیونکہ یا تو آپ اس کی وجہ سے زخمی ہو جائیں گے یا پھر وہ سخت ورزش آپ کے لئے اتنی مشکل ہوتی ہیں کہ آپ پوری زندگی کے لئے وہ کر ہی نہ پائیں گے اور وزن پر قابو پانا زندگی بھر کا عمل ہے ورنہ ہمیشہ آپ کا وزن بڑھتا اور گھٹتا ہی رہے گا۔

  • 1
  • اگلا صفحہ:
  • 2
  • 3