جب خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں!

2

ماہرین جب جذباتی دوری کا مشورہ دیتے ہیں تو وہ چاہتے ہیں کہ آپ نشئی سے جذباتی طور پر الجھنے سے گریز کریں تاہم اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اس سے سختی یا لاپرواہی برتیں۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اسے بیچ منج دھار میں ڈوبنے کیلئے چھوڑ دیں۔ زیادہ تر اہل خانہ جذباتی دوری کا مشورہ قبول کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ ایک خاص غلط فہمی کی وجہ سے خاندانی نظام جذباتی دوری کے خلاف نظر آتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ یہ آپ کا نہیں، نشئی کا مسئلہ ہے، چونکہ وہ آپ کا بیٹا ہے تو یہ آپ کا بھی مسئلہ ہے۔ جذباتی دوری یہ نہیں کہ آپ اس سے رشتہ ختم کر دیں، اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اس کے موڈ اور مزاج کا ہمسفر بننے کی بجائے پرسکون رہیں تاہم اس مسئلے کا موثر حل سوچتے رہیں، کیونکہ اس کا اور آپ کا نفع ونقصان سانجھا ہے، اس کے بچاؤ میں آپ کا بچاؤ بھی ہے۔ تاہم آپ کیلئے ضروری نہیں کہ وہ پریشان ہو تو آپ پریشان ہوں۔ وہ خوش ہو تو آپ خوش ہوں۔ آپ اپنے موڈ اور مزاج کو اپنی پوری زندگی اور روز مرہ معمولات کے تناظر میں رکھ سکتے ہیں تاہم جذباتی طور پر کچھ فاصلے پر رہتے ہوئے آپ اس کی بھر پور مدد بھی کر سکتے ہیں۔ اب جبکہ دماغ میں پیدا ہونے والے جذباتی طوفانوں کی تصویر کشی کی جا سکتی ہے تو ہم ایسا بہت کچھ جان چکے ہیں جو اس سے پہلے ممکن نہ تھا۔ جب بادی النظر میں کوئی صورت حال خطرناک دکھا دیتی ہے تو فوراً خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگتی ہیں تاکہ ہم اس چیز سے بچنے یا پھر لڑنے کی تیاری کریں۔ دل دھڑکنا شروع کر دیتا ہے، سانس تیز چلنے لگتی ہے، چہرہ بھینچ جاتا ہے، بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے اور ایڈرنالین رگوں میں دوڑنے لگتی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ہمارے شعور نے ابھی خطرے کو صحیح طرح سے پہچانا بھی نہیں ہوتا اور ہمارے ہاتھوں کے طوطے اُڑ جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ ہماری شعوری سوچ بچار سے پہلے ہو جاتا ہے۔ یہ اعلا ن جنگ ہمارے دماغ کا سوچا سمجھا فیصلہ نہیں ہوتا۔ عجیب بات ہے نا؟ دماغ کا ایک چھوٹا سا بادام جیسا حصہ امگڈلہ آناً فاناً گردونواح سے خطرے کی بو سونگھ کر ایمرجنسی کا اعلان کر دیتا ہے اور پورے وجود میں سراسیمگی پھیل جاتی ہے۔ یوں سمجھیئے کہ بچاؤ کی کنجی دراصل امگڈلہ میں ہی رہتی ہے۔ چائے کی پیالی میں یہ طوفان کوئی سوچا سمجھا ردعمل نہیں ہوتا، امگڈلہ شعور سے صلاح مشورے کا انتظار نہیں کرتا، حواس خمسہ سے ملنے والی کچی پکی معلومات کے بل بوتے پر ہی ’’ہٹو بچو‘‘ کا شور مچا دیتا ہے۔ امگڈلہ بہت تیزی سے متحرک ہوتا ہے اور حفظ ماتقدم کے طور پر بھاگ دوڑ اور دھنیگامشتی کا آغاز کر دیتا ہے۔ سائنسدانو ں نے تجربات کی روشنی میں بتایا ہے کہ غصے والا چہرہ دیکھتے ہی سیکنڈ کے پچیسویں حصے میں ہمارا امگڈلہ آپے سے باہر ہونے لگتا ہے۔ انتہائی کم وقت میں سوچ بچار ممکن ہی نہیں، یہ سب کچھ بنا سوچے سمجھے ہی ہوتا ہے۔ اتنے مختصر وقت میں امگڈلہ یہ بندوبست کر لیتا ہے کہ ارد گرد کوئی ممکنہ خطرہ ہو تو بس پھر اس کی ایسی تیسی۔ امگڈلہ پھر آؤ دیکھتا ہے نہ تاؤ، گردے کے اوپر وا قع ایک غدود کو سگنل بھیجتا ہے کہ جنگ کی تیاری کی جائے، یلغار ہو! دوسرے لفظوں میں امگڈلہ اپنی مرضی پر چلتا ہے کسی ’’بڑے چھوٹے‘‘ کے حکم کا انتظار نہیں کرتا اور اعلان جنگ کر دیتا ہے۔

امگڈلہ پھرتی سے کام کرتا ہے لیکن شعوری سوچ و بچار اس کے فرائض منصبی میں شامل نہیں ہوتی۔ امگڈلہ نے یہ سبق خوب یاد کیا ہوتا ہے کہ فوری ایکشن لینا ہے، اسے اجازت درکار نہیں ہوتی۔ ہمارے بچاؤ کیلئے امگڈلہ فوری دوڑ دھوپ کرتا ہے جبکہ ہمارا شعور عقل ودانش اور سمجھ داری کا استعمال کرتا ہے اور صورت حال کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد احکامات صادر کرتا ہے۔ امگڈلہ انتظار کا قائل نہیں ہوتا، امگڈلہ خطرناک صورت حال میں انتظار پر تیار ہی نہیں ہوتا، اس کا فرض منصبی یہی ہے۔ جب بھی وہ خطرے کی بو سونگھتا ہے یا کوئی تشویش کی بات نظر آتی ہے وہ حرکت میں آ جاتا ہے۔ آپ اسے ’’ہاٹ بٹن‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں، جب کوئی بلا نوش دھت ہو کر گھر لوٹتا ہے اور وہ اس وقت تلخ موڈ میں ہے، آپ کا امگڈلہ الارم بجا دیتا ہے اور آپ احتیاط کی بجائے جھگڑنے کیلئے فی الفور لنگوٹ کس لیتے ہیں دیکھتے ہی دیکھتے گفت و شنید فساد میں بدل جاتی ہے اور پھر آپ کو اپنے روئیے پر پچھتاوا ہوتا ہے اور ایسے میں آپ اسے وہی کچھ دے دیتے ہیں جس سے پہلے منع کر رہے تھے۔ اشتعال دلانا اور پھر معاونت کرنا لازم و ملزوم ہیں۔ اصل میں آپ کو نشئی کی زندگی میں مداخلت کی ضرورت ہوتی ہے اور ایک نشئی سے مذاکرات کیلئے بہت کچھ جاننے اور سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے، بھر پور تیاری اور مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں کسی لمحے کی وقتی گرمی میں تو بات صرف بگڑ ہی سکتی ہے۔ لمبی منصوبہ بندی مسلسل راہنمائی اور ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ ہی صورت حال کو بہتری کی طرف لے جایا جا سکتا ہے۔

تسلی کی بات یہ ہے کہ ہم صرف امگڈلہ کے رحم کرم پر نہیں ہیں، ہمارے دماغ کے عین سامنے ماتھے کے پیچھے شعور کی آماجگاہ ہے، اسے آپ ماسٹر مائنڈ بھی کہہ سکتے ہیں۔ دماغ کا یہ حصہ “پہلے تولو پھر بولو” اور “پھونک پھونک کر قدم اٹھاؤ جیسے” نظریات “پر چلتا ہے، تاہم ماسڑ مائنڈ کے شائستہ اور ٹھوس اقدامات سے پہلے ہی امگڈلہ ہڑبونگ مچا دیتا ہے۔ حتمی پا لیسی بناتے ہوئے ماسڑ مائنڈ کو وقت لگتا ہے اور یہ حتمی پالیسی بھگدڑ کی جگہ کتنی تیزی سے لیتی ہے اسی پر ہماری خوشحالی کا دارومدار ہے۔ امگڈلہ کی ذمہ داری فوری بچاؤ تک محدود ہے، مثال کے طور پر ہم کہیں گھوم پھر رہے ہیں اور امگڈلہ کو لگتا ہے کہ ہماری راہ میں کوئی سانپ ہے تووہ فوری طور پر رک جانے، بھاگ جانے یا مرنے مارنے پر آمادہ کرے گا تاہم جب ہما را ماسڑ مائنڈ جلد یہ جان لے گا کہ یہ سانپ نہیں بلکہ محض ایک رسی ہے تو وہ ہمیں مسکرا کر آگے بڑھ جانے کی اجازت دے دے گا۔ امگڈلہ بنا کوئی وقت ضائع کئے عارضی اقدامات کیلئے تیار کرتا ہے، جبکہ ماسڑ مائنڈ سوچ بچار اور فیصلہ کن اقدام کیلئے کچھ وقت لیتا ہے۔

  • 1
  • 2
  • اگلا صفحہ:
  • 3
  • 4

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments