جب خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں!

3

امگڈلہ بھی بہت کا م کی “چیز” ہے۔ اگر ہمیں صرف اپنے ماسڑ ما ئنڈ پر تکیہ کرنا پڑتا تو شاید ہم زندگی میں چلتے چلتے کئی سانپوں اوربچھوؤں کے سامنے سوچ بچار میں غرق ہو جانے کی غلطی کر گزرتے، انتظار کی گھڑیاں گنتے، موجود آپشنز میں سے کوئی چننے کا فیصلہ کرتے اور اسی دوران سانپ اور بچھو موقع پا کر ڈس لیتے اور ہم جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے !

جب بلانوش گاڑی لے کر گیراج میں داخل ہوتا ہے تو جہاں ہمیں امگڈلہ فوری طور پر لڑنے بھڑنے کیلئے تیار کرتا ہے وہیں ماسٹر مائنڈ اس کی چال ڈھال اور انداز و اطوار کا جائزہ لینا چاہتا ہے۔ آیا وہ واقعی پیتا رہا ہے یا نہیں؟ وہ مہ نوشی کے کس مرحلے میں ہے؟ کیا وہ ابھی ابھی شراب پی کر آیا ہے اور ترنگ میں ہے؟ یا اسے شراب پیئے چند گھنٹے گزر گئے ہیں اور اب شراب سے بننے والے زہریلے مادوں کے زیر اثر تلخی کے مرحلے میں ہے یا پھر وہ دھت ہے اور اُس سے چلا جا رہا ہے اور نہ ہی بات کر پا رہا ہے؟ یہ فیصلہ کرنے کیلئے ماسٹر مائنڈ اسے اپنے سامنے سے گزر کر گھر میں داخل ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے۔ کیا اس کے منہ سے شراب کی بو آ رہی ہے؟ اس کا موڈ کیسا نظر آر ہا ہے؟ ہمیں کیا حفاظتی اقدامات کرنے ہوں گے؟ بلا نوش کے گھر میں داخل ہوتے ہی بچوں کا تتر بتر ہو جانا بڑی عام سی بات ہے۔ وہ اپنے کمرے میں جا چھپتے ہیں یا پھر دوستوں سے ملنے کیلئے گھر سے نکل جاتے ہیں۔ وہ ماسٹر مائنڈ کے حتمی فیصلے کا انتظار نہیں کرتے کہ بلانوش دھت ہے بھی یا نہیں؟ وہ امگڈلہ کی سنتے ہیں جو کہتا ہے ’’اٹھو بھاگو دوڑو، ہٹو بچو‘‘۔ وہ کسی پھڈے سے بچنے کیلئے محفوظ پناہ گاہ کی طرف لپکتے ہیں۔ نتیجے میں نشئی شیم محسوس کرتا ہے وہ سمجھتا ہے نشے میں نہ ہو تب بھی لوگ اس سے دور بھاگتے ہیں۔ ایسے میں وہ بے بسی کے عالم میں دھونس دھمکی کے ذریعے سب کو ’’لائن حاضر‘‘ رہنے کا حکم دیتا ہے۔

خطرے کا یہ الارم اس وقت بھی حرکت میں آ جاتا ہے جب نشہ بازی کے منفی نتائج آتے ہیں۔ مثلاً کسی نشہ باز کو روزگار سے نکالا جاتا ہے تو اہل خانہ بے چین ہو جاتے ہیں اور فوری ردعمل دیتے ہوئے اسے فکر مندی سے نکالتے ہیں حالانکہ اسے فکر مند ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب بلانوش ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتا ہے تب بھی اہل خانہ کی بے چینی آسمان کو چھونے لگتی ہے اہل خانہ کو بےچین دیکھ کر نشئی بھی بےچین ہو جاتا ہے اور بھڑک اُٹھتا ہے۔ نتیجہ:وہ سب جہاں بھی جا رہے ہوتے ہیں ان کی منزل جھگڑا بن جاتی ہے۔ جب وہ اپنی اماں کے پرس سے روپے چوری کر کے ہیروئن پیتا ہے تو ڈر اور خوف عروج پر ہوتا ہے۔ ہم سوچتے ہیں یہ آخر اور کتنا گرے گا؟ جب کوئی ماں بچوں کو تنہا چھو ڑ کر زینکس کی گولیاں پھانک لیتی ہے تو بچے ڈر جاتے ہیں۔ ایسے میں وہ فوری طور پر کیا کر سکتے ہیں؟ آپس میں لڑائی جھگڑا یا پھر قبرستان جیسی خاموشی۔ اگر ماسڑ مائنڈ میدان میں اترے تو کیا بولے گا؟ ’’ہاں! یہ بہت سنجیدہ صورت حال ہے اور اچھا ہو گا کہ ہم فوری طور پر مناسب اقدام کریں ورنہ ہما ری زندگی بھی پسماندگی کی طرف چلی جائے گی۔ دراصل قدم اٹھا کر ہم صرف اسے نہیں اپنے آپ کو بھی بچائیں گے‘‘۔ امگڈلہ کہتا ہے کچھ نہ کچھ کر گزرو۔ ماسڑ مائنڈ کہتا ہے بہترین قدم اٹھاؤ جس سے مثبت نتائج نکلیں۔ ایسے میں بہترین قدم کیا ہو گا؟ کسی ماہر سے رابطہ؟ صلاح مشورہ؟ یا فی الحال گوگل پر اپنے مسئلہ لکھ کر بنیادی معلومات حاصل کرنا؟ یا پسِ پردہ رہتے ہوئے ہماری ویب سائیٹ پر موجود ماہر سے گفت و شنید؟

ازل سے زیادہ تر امگڈلہ متحرک رہا ہے کیونکہ اس زمانے میں انسانوں کا واسطہ ایسے مسائل سے تھا جن کیلئے سوچ وبچار ضروری نہ تھی بلکہ بھاگ دوڑ زیادہ کارآمد تھی۔ گزرتے ہوئے وقت کے ساتھ سوچ و بچار کا کردار بھی ابھر کا سامنے آنے لگا آج سوچ و بچار اور بات چیت کے ذریعے ہی زیادہ تر مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔ ایک اور تماشا یہ ہے کہ ان دونوں کے درمیان دوران خون کیلئے لوڈشیڈنگ کا رشتہ ہے۔ امگڈلہ متحرک ہو گا تو زیادہ خون اپنی جانب کھینچ لے گا، ایسے میں ماسٹر مائنڈ کو کم خون ملے گا اور وہ اعلیٰ درجے کی سوچ وبچار نہیں کر سکے گا۔ دونوں ایک ساتھ خون کی بھرپور مقدار نہیں لے سکتے، اسی لئے دونوں ایک ساتھ عمدہ کارکردگی بھی نہیں دکھا سکتے۔ ان دونوں کے درمیان تال میل کیلئے آپ کو ان کے آن آف سوئچ بنانے پڑیں گے جو آپ کے ہاتھ میں رہیں، شتر بے مہارنہ بنیں۔ یہ سیکھنے کا کام ہے۔

بلانوشوں کے قریبی عزیز اور دوست بہت بے چین رہتے ہیں۔ تحقیق بتاتی ہے جب ہمیں بار بار ذہنی دباؤ اور حادثوں کا سامنا ہوتا ہے تو امگڈلہ ’’چالو‘‘ ہو جاتا ہے۔ دماغ کے مختلف حصوں کے درمیان رابطہ کم اور چھیڑچھاڑ بڑھ جاتی ہے۔ خلیے زیادہ متحرک ہو جاتے ہیں ایک غدر برپا ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دفعہ فون کی گھنٹی بجنے پر ایک بلانوش کی بیوی اچھل پڑتی ہے۔ دروازے پر دستک ہو تب بھی کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ امگڈلہ اور بھی حساس ہو جاتا ہے اور وہاں بھی خطرے کی بو سونگھ لیتا ہے جہاں ہر گز خطرہ نہیں ہوتا، چنانچہ وہ بلانوش کے مسائل حل کرنے میں جُتا رہتا ہے تاکہ راوی چین لکھے اور اسے قرار آ جائے۔

  • 1
  • 2
  • 3
  • اگلا صفحہ:
  • 4

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments