جذبات کو ذرا الگ کردیں
اکثر لوگ نشے کے مریض سے لاتعلقی کا مشورہ دیتے ہیں۔ لوگ نشے کی بیماری کو نہیں مانتے، وہ اسے اخلاقی گراوٹ سمجھتے ہیں۔ لوگوں کا خیال ہے کہ نشئی اپنی بربادی کا خود ہی ذمہ دار ہے اور اس بیماری سے وہ محض ارادے کی قوت سے نکل سکتا ہے، کسی کو اس کی مدد کرنے کی ضرورت نہیں یا پھر اگر وہ مرتا ہے تو بیشک مرے، لوگوں کا خیال ہے کہ ہم ایسا کچھ بھی نہیں کر سکتے جس سے نشئی کوصحت یابی میں مدد ملے۔

upper

Dr. Sadaqat Ali

ڈاکٹر صداقت علی، ٹرننگ پوائنٹ کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ہیں۔ وہ ملک کے ممتاز ماہرِ منشیات ہیں۔ پاکستان میں نشے کے علاج کے حوالے سے ان کا نام سب سے نمایاں ہے۔ انہوں نے ڈو میڈیکل کالج ، کراچی سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد امریکہ میں ہیزلڈن، مینی سوٹا سے نشے کے علاج میں اعلی تعلیم حاصل کی۔ اب تک ہزاروں نشے کے مریض ان کے ہاتھوں شفایاب ہو چکے ہیں۔ (مزید پڑھیے)

lower

پہلے پہل مصنوعی تنفس فراہم کرنے پر بھی بہت شوروغوغا ہوا۔ سوال یہ اُٹھا: کیا انسان کو خدا کے ہا تھوں سے واپس لانے کی کوشش ہمیں زیب دیتی ہے؟ کوئی ڈوب کر جان دے دے تو اس کے دل کو جھنجھوڑ کر چلانا خدا کے کاموں میں دخل اندازی ہو گی؟ باتیں بنانے کا کوئی بل نہیں آتا اس لئے لوگ بے حساب بناتے ہیں، تاہم دریا میں ڈوبنے والا کوئی اپنا ہو تو لوگ دریا میں چھلانگ لگا دیتے ہیں چاہے تیرنا نہ بھی آتا ہو! کسی اجنبی کی جان اتنی قیمتی نظر نہیں آتی! نشے کے مریض سے لاتعلقی کا مشورہ بھی ایسا ہی ہے۔ دوسروں کو مشورے دینا آسان ہے تاہم ہیروئن اور کوکین کے چنگل میں پھنسنے والا کوئی اپنا لخت جگر ہو تو؟ شراب میں غرق ہونے والا اپنے سر کا تاج ہو تو؟ ایسے میں لاتعلقی کا سبق یاد نہیں آتا۔

آپ کو بار بار لاتعلقی کا مشورہ دیا جاتا ہے تاہم، آپ ایسا کر نہیں پاتے۔ بار بار واپس پلٹتے ہیں، لاتعلقی کا نظریہ زیادہ دیر تک آپ کے دل میں جگہ نہیں بناتا۔ ماہرین کبھی اہل خانہ کو لاتعلقی کا مشورہ نہیں دیتے بلکہ وہ ’’جسمانی دوری‘‘ یا ’’جذباتی دوری‘‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ جب مریض آپ پر جذباتی اور جسمانی حملے کرتا ہے تو آپ اپنا بہترین دفاع کرنا چاہیئے۔ آپ جوابی حملے نہیں کرتے تاہم آپ اپنے آپ کو حتیٰ امکان بچاتے ہیں اور دفاع پر ندامت محسوس نہیں کرتے۔ آپ مار کر یا گالیاں برداشت کر کے فخر محسوس نہیں کرتے اور اپنے آپ کو شہید وفا نہیں بناتے۔ جسمانی دوری کی ضرورت تب پڑتی ہے جب مریض آپ کو زخمی کرنے پر اتر آتا ہے۔ جسمانی دوری پر ہم پھر کبھی بات کریں گے۔ زیادہ تر ماہرین جذباتی دوری کی بات کرتے ہیں۔ لاتعلقی اور جذباتی دوری میں بہت فرق ہے۔

’’ لاتعلقی‘‘ کے الفاظ استعمال کر کے جذباتی دوری کے نظرئیے کو سمجھنا بہت مشکل بنا دیا گیا ہے۔ ایک انتہائی کار آمد ہدایت بے معنی ہو کر رہ گئی ہے کیونکہ یہ ہماری فطرت کےجذباتی تقاضوں کو پورا نہیں کرتی، یہ بچاؤ کی کوششوں کے برعکس نظر آتی ہے۔ اس سے خاموشی کے ساتھ دور کھڑے ہو کر تماشا دیکھنے کا تاثر جنم لیتا ہے۔ دراصل کسی پیارے کے ساتھ لاتعلقی اور جذباتی دوری کے فرق کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

  • 1
  • اگلا صفحہ:
  • 2
  • 3
  • 4