جب خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں!

4

جذباتی دوری ایک روحانی قدم ہے۔ اس سے دماغ مستحکم ہو جاتا ہے وہم اور کمزور عقیدے سر نہیں اٹھاتے۔ جذباتی دوری در حقیقت تحمل اور بردباری پر مبنی مثبت سوچ کا نام ہے تاہم اس دوران عملی اقدامات جاری رہتے ہیں۔ اہل خانہ مریض اور اس کے مرض کو بھولتے ہرگز نہیں۔ وہ اپنی معلومات، ہنرمندی اور تربیت جاری رکھتے ہیں لیکن بے مقصد دخل اندازی اور ہلے گلے سے دور رہتے ہیں۔ جذباتی دوری، نتیجہ خیز اقدامات کی راہ ہموار کرتی ہے۔ یہ پرسکون رہنے اور ٹھوس قدم اُٹھانے کا ملاپ ہے۔ جذباتی دوری ناصرف اپنی عزت نفس کو بچانے بلکہ اپنے پیارے کی حقیقی مدد کرنے کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ اپنے جذبات کی تنظیم نو کرنے کے بعد ہم دوسروں کے دکھ درد کی شدت کو کم کر سکتے ہیں۔ بہت سے اجزاء مل کر لائحہ عمل بنانے اور کچھ کر گزرنے میں مدد دیتے ہیں۔ جذباتی دوری ہمیں مفروضوں اور مفلوج کر دینے والے خوفوں سے بھی نجات دیتی ہے۔ اپنی فطری جبلت کو تعمیری طور پربروئے کار لاتے ہوئے ہم اپنے پیارے کی مدد کیلئے امید افزاء راستے کھولتے ہیں۔ جذباتی دوری کا مطلب اپنے اور پیارے کے درمیان دیوار کھڑی کرنا ہر گز نہیں بلکہ سنہری پل تعمیر کرنا ہے تاکہ مدد کیلئے وہ ہماری طرف اور ہم اسکی طرف جا سکیں، تاہم تھک کر چور ہو جائیں تو کچھ دیر اپنی اپنی جانب رہنے میں کوئی حرج نہیں۔

جب کوئی پیارا اپنی زندگی برباد کرنے پر تُلا ہوتا ہے تو حقیقی دوست ہمیشہ اصلاح کیلئے آگے بڑھتے ہیں۔ ہزاروں سال سے لوگ یہی کرتے آئے ہیں حالانکہ تب دوسروں کی زندگی میں دخل کے جدید طریقے ابھی دریافت نہیں ہوئے تھے۔ بعض اوقات تو وہ کافی زور زبردستی بھی کرتے تھے۔ ایسے میں جب کبھی انہیں کوششوں کے باوجود کامیابی نہ ملتی تو وہ تھک ہار کر بیٹھ جاتے تھے۔ پھر کچھ دوسرے لوگ مدد کیلئے آگے بڑھتے تھے اکثر نشے کے مریض مدد قبول کرنے سے انکاری ہوتے ہیں۔ کسی ایسے بندے کی مدد کرنا مشکل کام ہے جو مدد نہیں چاہتا۔ جہاں واسطہ علتوں سے ہو وہاں خود اپنی مدد کرنا بھی آسان نہیں ہے۔ سچ تو یہ ہے اگر کوئی دل و جان سے مدد قبول کرنے پر آمادہ ہو، تب بھی مدد کرنا آسان نہیں، تاہم مل جل کر سائنسی طریقے برؤے کار لائے جائیں تو کامیابی نسبتاً آ سان ہو جاتی ہے۔ آج دوسروں کی زندگی میں مداخلت کے نفیس طریقے موجود ہیں، ان کی موجودگی میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنا کفران نعمت ہے۔ اکثر لوگ سوچتے ہیں کہ کسی کی زندگی میں دخل دینا نیکی برباد اور گناہ لازم والا معاملہ بن سکتا ہے، پھر بھی مدد کرنا کار خیر سمجھا جاتا ہے۔ کسی پیارے کی مدد کرنا کافی صبر آزما کام ہے، یہ تقدس سے بھر پور مہم جوئی ہے جو محبت بھری خوبصورت زندگی کا دوسرا نام ہے۔

منشیات، شراب اور دیگر علتیں گھروں کا امن و سکون تباہ کر دیتی ہیں۔ علتوں میں مبتلا انسان اصلاح کی طرف پہلا قدم خود نہیں بڑھاتے، یہ بیڑہ ان سے پیار کرنے والے اٹھاتے ہیں۔ علاج کا فیصلہ مریض کے ارد گرد صحت مند دماغوں سے ابھرتا ہے۔

منشیات کا استعمال بیمار اور لاچار کر دیتا ہے۔ یہ بیماری تباہ کن ہے۔ تاہم تسلی رکھیں یہ قابل علاج ہے۔ منشیات، شراب اور دیگر علتوں سے نجات کے کئی راستے ہیں۔

سب کو داخلے کی ضرورت نہیں ہوتی ایڈکشن کی ابتداء ہو تو مریض کا علاج میں آنا ضروری نہیں، اہل خانہ ٹریننگ کے ذریعے اپنے پیارے کو علت سے نجات دلا سکتے ہیں ایڈکشن قدم جما چکی ہو تو مریض کو آؤٹ ڈور میں آنا پڑتا ہے۔ بیماری بہت پرانی ہو تو داخلہ ضروری ہو تا ہے، مریض میں علاج کی خواہش اور جذبہ کیسے پیدا کریں، آپ کو یہ سمجھانا ہماری ذمہ داری ہے۔ ولنگ ویزایڈکشن کی بے مثال علاج گاہ ہے، جہاں کلائنٹس کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کیا جاتا ہے اور وہ اپنی زندگی کی تعمیر نو کر لیتے ہیں۔ آپ نے جس معجزے کا انتظار کیا، وہ اب آپ کا انتظار کر رہا ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments