چھوڑیں تو چھوڑیں کیسے؟

3

آپ سگریٹ کی تعداد میں کمی کے ساتھ ساتھ وقت اور دنوں کا دورانیہ بڑھانے کی کوشش بھی کریں جیسے میں آج صرف دو سگریٹ ہی پیوں گا یا پھر ایک دن کے وقفے کے بعد میں من چاہی تعداد میں سگریٹ پی لوں گا مگر کم از کم آج نہیں! اگر آپ خود سے متعین کردہ عہد کی پاسداری نہ کر سکیں تو خود کو لعنت ملامت ہر گز مت کریں بلکہ پھر سے خود کو قائل کریں کے چلیں اس بار نہ سہی اگلی کوشش میں اس عہد کو وفا کروں گا۔

ایسے دوستوں کی صحبت سے مکمل یا جزوی علیحدگی اختیار کریں اور ساتھ ہی ساتھ انہیں اس بات کا اظہار بھی کریں کہ آپ کا تعاون میرے مقصد کو پورا کرنے میں بڑا مددگار ثابت ہو گا۔ اگر میں سگریٹ کی درخواست بھی کروں تو مجھے دینے سے پہلے میرے عہد کے بارے میں آگاہ ضرور کریں۔ اُن لوگوں سے دوستی بڑھائیں جو سگریٹ چھوڑ چکے ہوں وہ آپ کو مفید مشورے سے آگاہ کریں گے کہ انہوں نے کس طرح اس سے چھٹکارا پایا۔

گھر میں فیملی کو اس نیک ارادے سے ضرور آگاہ کریں تاکہ وہ یہ ممکن بنا سکیں کے آپ کے آس پاس کوئی سگریٹ نہ رہنے دیں اور آپ کی حوصلہ افزائی بھی کرتے رہیں۔ ایک بات کا خیال رہے کہ بے بو تمباکو ہر گز منہ میں نہیں رکھنا جیسے کچھ لوگ رکھ لیتے ہیں اس سے منہ کے کینسر کا احتمال بڑھ جاتا ہے۔ اگر قوت ارادی سے کامیاب نہ ہو سکیں تو پھر ڈاکٹر کے مفید مشوروں کی روشنی میں اس طریقے کا انتخاب کیا جائے جو آپ کو راس آئے جیسے متبادل تھراپی، نیکوٹین پیچیز، چیونگم، لوزینجیزیا نیزل سپرے وغیرہ۔ اسی طرح کچھ ادویات سے بھی افاقہ ممکن ہے جیسے کہ زئی بان۔

سگریٹ نوشی چھوڑنے کے کچھ اثرات بھی ہوتے ہیں جیسے چڑچڑاپن، بے مزہ زندگی، موڈ اور مزاج کی خرابی۔ لہذا زندگی میں کچھ اور مزے کی چیزیں تلاش کریں۔ کڑا وقت ہفتے بھر کا ہوتا ہے تاہم کچھ کا طویل بھی ہو جاتا ہے۔ لیکن جب آپ متبادل تھراپی پر جاتے ہیں تو اس سے آپ کو شدید طلب نہیں ہوتی۔ کبھی بھی ناکامی کے خوف سے مت گھبرائیں بلکہ اس کی طرف توجہ مت دیں اور کامیابی کی طرف سوچیں۔

ری لیپس کی وجہ سے کبھی اپنے آپ کو لعنت ملامت نہ کریں، عموماً پہلی کوشش کامیاب نہیں ہوتی تاہم چار پانچ کوششوں کے بعد نتائج نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ جلد بازی میں کی گئی یہ خواہش اچھی نہیں کہ میں ابھی سگریٹ چھوڑ دوں گا بلکہ یہ فیصلہ کرنا کہ میں اسے چھوڑ دوں گا بہت بہتر ہے۔ ایک مشہور کہاوت ہے کہ سگریٹ نوش کبھی بوڑھے نہیں ہوتے۔ کیونکہ وہ بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھنے سے کہیں پہلے ہی اس جیتی جاگتی، رنگین دنیا سے دور دوسری دنیا میں قدم رکھ چکے ہوتے ہیں جہاں سے وہ خود کبھی نہیں آتے بلکہ ان کے چاہنے والوں کو بس اُن کی یادیں ستانے آتی ہیں۔ زندگی سے پیار کیجئے اپنے لئے دوسروں کیلئے!

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments