مُصنف:صُمیرا خان
ایڈیٹر: سحرش سرفراز

ہر انسان ایک ہی طریقے سے بنایاگیا ہے۔ ماسوائے اُسکے نشونمانی تفرکات کے۔ اگر ہم دماغ کی ساخت کو فرض کریں تو تمام انسان ایک جیسے ہیں اور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہم سب ایک ہی طریقے کے ہارڈوئیر ہیں۔ پس ہم کیوں مختلف عمل کرتے ہیں، مختلف اعتقادات بناتے ہیں اور مختلف طریقوں سے ادراک کرتے ہیں۔

آسان وضاحت یہ ہے کہ ہر فرد کی اُسکی ذاتی یاداشت ہے ذاتی طریقے ہیں سوچنے کے اور جذبات کو ہنڈل کرنے کے۔ بجائے ایک یکساں ہارڈوئیر کے، ہم مختلف سوفٹ وئیر کے مالک ہیں جو کہ ہمیں ہمارے اصل کی اجازت دیتے ہیں۔ یہاںآج بھی ہمارے ذرائع اور ہمارے آپریٹنگ سسٹم کے آغاز کے اُوپر بحث چلتی ہے کہ آ یا یہ ہماری روح ہے؟ یا ذہن؟ یا دونوں؟ مگر مجموعیت اس بات پر یقین رکھ سکتی ہے کہ انسان ایک یکتا مختلف ہے بہت سے سیکھتے ہیں اور اپنے سوفٹ وئیر کو اپڈیٹ کرتے ہیں۔کچھ بس تعمیر کردہ سوفٹ وئیر میں ہی رہتے ہیں۔ یہ کوشش اور غلطیوں سے سیکھنے کی فطرت رکھتے ہیں۔ ہماری جین اور ہماری فطرت۔ ہمارا اردگرد سب مل جل کر ہمیں مختلف بناتے ہیں۔ زندگی کے تجربات اور دلچسپیاںیہ سب مل کر ہمارے ادراک بناتے ہیں۔ ایک بچہ جو کہ انگلینڈ میں پیدا ہوا، انگلش بول سکتا ہے، جبکہ ایک بچہ جو چین میں پیدا ہوا وہ چائینز بول سکتا ہے اور دوسرے بھی انکی زبانیں بول سکتے ہیں۔

اعلی ذرائع کے مطابق: دنیا میں 6909 زبانیں بولیں جاتی ہیں جو ہم نے ایجاد کی ہیں۔ پس ہم مختلف ہیں۔ یہاں تک کہ ایک زبان میں لہجہ ، ایک لفظ مختلف مطلب رکھتا ہے آواز کی گمگ، چہرے کے تاثرات، جسمانی اشارات، لفظوں کا انتخاب، جملوں کو کہنا اور دوسرے مختلف عوامل بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ بنیادی بات چیت دوقسم میں تقسیم ہوتی ہے۔ غیر تحریری اور تحریری۔ پس اس آرٹیکل میں ہماری توجہ کا مرکز بات چیت کی ایک قسم کی طرف لانا ہے۔ سننا بات چیت کے ماہرین اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ سُننا ایک بنیادی مہارت ہے کسی بھی ڈائلاگ یا بات چیت میں سُننا صرف ایک آواز کی سماعت نہیں ہے بلکہ دوسرے فرد کو سمجھنا ہے۔ مزید۔ اس معلومات کو رشتوں کی بارآوری کے لئے استعمال کرنا۔

ایک اچھا سُننے والا بننا بات چیت کی بنیادی چابی ہے۔ اب اہم بات یہ ہے کہ کسطرح سے کوئی ایک اچھا سُننے والا بن سکتا ہےایک جرمن نفسیات دہ فرائد مین شولز ون تھم جو کہ ذاتی بات چیت کے بھی ماہر ہیں نے(Four Square Model) کو پیش کیا۔جنہیں Four Ear Model بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ماڈل بتاتا ہے کہ ایک شخص سے دوسرے شخص کی بات چیت میں ہر پیغام کے چار مرحلے ہوتے ہیں۔ حقیقی معلومات: یہ بنیادی مرحلہ ہے۔ یہ حقیقت کو دیکھتا ہے۔ ثبوت اور خارجیت کو دیکھتا ہے۔ دوسرا مرحلہ ذاتی انکشافات کا ہے۔ اس مرحلے میں بولنے والا اپنے بارے میں تفصیل دیتا یا دیتی ہے جو کہ جذبات ہوسکتے ہیں۔ ذاتی خواہشات، اقدار اور سوچنے کے درجے پر ناپسندیدگی ہوسکتی ہے۔ تیسرا مرحلہنسبت کا ہے۔ یہ لیول معلومات کو بیان کرتا ہے خاص کر رشتوں کے بارے میں۔ اس بارے میں کہ بولنے والا سُننے والے کے بارے میں کیا محسوس کرتا ہے اور اسطرح دونوں بہتر طریقے سے ساتھ ہو سکتے ہیں۔ مرافعہ کرنا: ایک ناطق مرحلہ ہے ۔ یہ پیغام میں ایک درخواست کو پیش کرتا ہے کہ بولنے والا سُننے والے سے کیا چاہتا ہے؟ کچھ ایسا جو وہ چاہتا ہے کہ ہو۔

ایک اچھے سُننے والے والابننے کے لیے یہ چار مرحلے بہت بڑی مدد کرسکتے ہیں۔ مثال کے طورپر ایک جوڑا ٹریفک سگنل پر رُکتا ہے اور بیوی کہتی ہے کہ “چلوبتی” ہری ہے۔ تو کیا تاثرات شوہرپر جوکہ گاڑی چلارہا ہے پڑینگے۔ میں حقیقی معلومات یہ ہے کہ بتی ہری ہے۔ذاتی انکشافات ایک تنگی ہوسکتی ہے کہ میں لیٹ ہورہی ہوں۔ یا مجھے انتظار کرنا پسند نہیں۔ پس رشتے کی نسبت یہ پیغام دے سکتی ہے کہ تم ایک دھیمے ڈرائیور ہو یا مجھے تمھاری ڈرائیونگ پسند نہیں۔ مزید ! (درخواست) کا مرحلہ یہ پیغام دے سکتا ہے کہ “تیز چلوؤ” یا مجھے چلانے دو۔ پس یہاں بہت سے امکانات ہوسکتے ہیں کہ جو سُننے والا وصول کرسکتا ہے۔ اور ایک اچھا نہ سُننے والا فوراً اسے لڑنا ہی تصور کرسکتا ہے۔ معلومات کے بجائے بہت سے کھلی تشریح ہیں۔ مختصراً۔ لفظوں کے ادراک میں بہت بڑا فرق ہو سکتا ہے جو کہ دوسرے کو کہے جاسکتے ہیں۔ اسکے علاوہ کیا ہے جو ہمیں پُراثر سُننے والا بنا سکتا ہے؟ درستی / جواز کے قابو میں رکھنے کا خیال بھی یہاں ایک بغور اہمیت رکھتا ہے ۔ تو ثیقیت دوسرے شخص کے جذبات کی تصدیق کرنا ہے۔ کیونکہ جذبات کبھی غلط نہیں ہوتے۔ یہ منفی ہوسکتے ہیں ، جیسے کہ غصہ، مایوسی یا شرمندگی۔ اور یہ مثبت بھی ہوسکتی ہے۔ اگر ایک شخص ذہنی حالت کیطرف جائے تو یہاں تصدیق کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور تقریباًہر ایک ہی تصدیق کے مرحلے ڈھونڈتا ہے۔تصدیق کا ایک اصول یہ ہے کہ تین دفعہ سننے اور پھرپہلے سمجھے۔ مواد کو سنے یا کیا کہا گیا ہے؟ پھر جذبات کو سنے یا کیا مطلب ہے؟ اور آخر میں بولنے والے کی حالت کو سمجھنے کی کوشش کریں یا ادراک کریں۔ بدقسمتی سے ، بہت سے لوگ بس جواب دینے کے لیے سنتے ہیںیا مسئلے کاحل بتانے کے لیے۔ یہاں تک کہ مسئلے کو حل کرنے کی ذمہ داری بھی لیتے ہیں۔ جبکہ اسکی ضرورت نہیں ہوتی۔ کم از کم بات چیت کے ابتدائی مرحلے پر نہیں۔ ایک اچھا سُننے والا ہمیشہ مکمل تصویر کو دیکھتا ہے۔

مندرجہ ذیل چند معلومات لینے کے طریقے ہیں اور دوسرے تحریری عوامل ہیں جو کہ بہت متاثرکن ہے۔ معلوماتی فطرات کا استعمال ہمیشہ مدد کرتا ہے جب ہم کسی کو سُنتے ہیں، دلچسپی کا ظاہر کرناضروری ہے۔ اور بولنے والے کے لیے آسانی کرنا کہ وہ زیادہ سے زیادہ معلومات باہر نکالے کچھ سادہ الفاظ کہہ کر: اوھ، اچھا، پھر، ہم ، ہاں یا نہیں۔
وضاحت: سُننے والے کی طرف سے استعمال ہونے والا اور ایک طریقہ ہے کہ خود کی سمجھ داری کو چیک کرنے کے لیے، اسکا مقصد جملے کو زبانی کہنا ہے جیسے کہ سُننے والاسمجھ گیا۔

خلاصہ : سنی جانے والی معلومات کو باقائدہ طریقے سے بیان کرنا ہے جیسے شخص بات کررہا ہے،اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سُننے والا توجہ دے رہا ہے۔

عکاسیت: ایک اہم سُننے کا طریقہ، استعمال کیا جاتا ہے جبکہ بولنے والا مخفی ہو اور جب اسکو سمجھنا مشکل ہو۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اسکے تحریری حقائق کامشاہدہ کیا جائے اور ظاہر کیا جائے اس شخص کے اُوپر۔ یہ چہرے کے تاثرات ہوسکتے ہیں، آواز کی گمگ، جسمانی زبان، یا پھر بس خاموشی۔ یہ ایک آئینہ دیکھانے کی مانند ہے۔ مثال کے طور پر: تمھاری تیوری چڑھ رہی ہیں ،کیا ہوا؟ یا مجھے لگتا ہے کہ تمھاری آواز بہت تیز ہورہی ہے، چلوہم خود کو سکون دیتے ہیں۔

انسانوں کو معاشرتی جانور فرض کیا جاتا ہے۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت اور معاشرتی روابط کے لیے بنائے گئے ہیں۔ ہم سب چاہتے ہیں کہ ہمیں سُنا جائے۔ پس اپنی ذاتی نسبتوں کو آشکار کیجئے ایک ذہین سُننے والے بن کے۔