ٹی وی “مداخلت” کے سیزن 15 کی نویں قسط میں لورین کی اپنے باپ سے قطع تعلقی، جنسی تشدد کا شکار ہونا اور سوتیلے بھائی کی ہیروئن کی زیادتی کی وجہ سے موت کا واقع ہونا دیکھا گیا اور لورین نے اپنی تکلیف کم کرنے کے لیے الکوحل کا بے دریغ استعمال شروع دیا۔

لاکھوں کی تعداد میں لوگ ایڈکشن کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں اور ان میں اکثر کو نشہ روکنے کے لیے مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی، جو کہ ولنگ ویز اور صداقت کلینک کے پروجیکٹ ڈائریکٹر ہیں وہ یہ واضح کرتے ہیں کہ ا یڈکشن ایک دائمی بیماری ہے جو کہ ہمارے دماغ کے صحت مند نہ ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے اور یہ دماغی خرابی ہمیں نشہ تلاش کرنے اور پھر نشہ کر لینے کے لیے مجبور کرتی ہے جس کی بدولت یہ بذات خود انسان اور آس پاس لوگوں کے لیے نقصان دہ نتائج سامنے لاتی ہے۔

منشیات لینے کا ابتدائی فیصلہ لوگ رضا کارانہ طور پر کرتے ہیں لیکن ایک نشے کے عادی کے دماغ میں وقت کے ساتھ پائی جانے والی تبدیلیاں اس کے ذاتی کنٹرول اور منشیات سے دور رہنے کی صلاحیت میں رکاوٹ ڈال دیتی ہیں۔ خوش قسمتی سے ایسے لوگوں کا علاج دستیاب ہے۔

یہ دستاویزی فلم لورین کی ایڈکشن پر منبی ہے۔

loren-intervention-2-300x169لورین کے اہل خانہ کے بیان کے مطابق: اس کی زندگی ہمیشہ بھرپور تھی لیکن اب یہ ہر روز تین لیٹر شراب پیتی ہے اوراس کو پیئے بغیر کوئی بھی کام نہیں کر پاتی لورین اب جھٹکوں، بلیک آوٹ اور موڈ مزاج کے مسائل سے دو چار ہے۔ لورین ایک 26 سالہ شرابی لڑکی ہے۔ وہ اپنے دن کا آغاز شراب سے کرتی ہے لورین کے بیان کے مطابق وہ شراب کو ناپسند کرتی ہے لیکن شراب کی بدولت پیدا ہونے والے وِدڈال ختم کرنے کے لیے اُسے مجبوراً شراب پینی پڑتی ہے اور میں اس کے بغیر رہ نہیں سکتی۔ لورین کی ہم جنس شریک حیات کرسٹی جس کی عمر 35 برس ہے وہ روزانہ 5 لیٹر شراب پیتی ہے لورین نے 12 سال کی عمر میں شراب پینا شروع کی اور کرسٹی نے ۱۱ سال کی عمر میں طویل عرصے تک۔ شراب کے غلط استعمال کی بدولت کرسٹی کا جگر 10 فیصد تک کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ جیسا کہ اس قسط میں دکھایا گیا کہ یہ دونوں ایک دوسرے کا سہارا تھیں۔ اس کی والدہ نے بتایا کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے بغیر بالکل بھی نہیں رہتی تھیں۔ لورین دوسروں سے ہمدردی لینے کے معاملے میں ماہر تھی اور اسی چیز نے اس کے شکستہ روئیوں کو مضبوط ہونے کے لیے مجبور کیا جیسا کہ اس قسط کے کچھ مناظر میں بھی دکھایا گیا ہے۔ اس کے اہل خانہ خوف ذدہ تھے کہ کہی یہ اپنی زندگی سے ہاتھ نہ دھو بیٹھے۔

5 سال کی عمر میں لورین کے انتظامیہ سے مسائل شروع ہو گئے اور اسی دوران اس کے باپ نے اسے چھوڑ دیا۔ تین بچوں میں سے سب سے زیادہ متاثر لورین ہوئی۔ جب لورین 7 سال کی ہوئی تو اس کی والدہ اور سوتیلا باپ اس کے بہت قریب ہو گئے۔ لورین کا سوتیلا باپ بذات خود ایک شرابی تھا اور 29 سال سے وہ سوبر زندگی گزار رہا ہے۔ لورین جب 14 سال کی تھی اس کا کسی شخص سے تعلق قائم ہوا اور کار حادثے میں اس کی جان چلی گئی اور تب سے ہی لورین نے شراب کا استعمال شروع کیا اور اس کے بعد اس کے بعد شراب کا استعمال جاری رکھا اور روک نہ سکی اس کی والدہ کے مطابق وہ اپنی اس تکلیف سے نجات حاصل کرنے کے لیے شراب نوشی کرتی تھی۔

تاہم، سکول کے بعد وہ کالج میں چلی گئی اور گریجویشن کرنے کے بعد بحیثیت حفاظان صحت کام کیا اور اس وقت تک وہ بالکل ٹھیک کام کر رہی تھی۔ جب لورین 21 سال کی تھی تو اس کے نانا انتقال پا گئے اور تب اس نے انکشاف کیا کہ اس واقعے نے اسے ارساں کیا۔ 23 سال کی عمر میں وہ کریک کوکین کی عادی بھی ہو گئی اس کی ماں نے اس کے آگے ہاتھ جوڑے، بھیک مانگی کہ چھوڑ دو یہ سب لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔

جیسا کہ اس قسط میں دکھایا گیا کہ 18 ماہ پہلے لورین کا سوتیلا بھائی ہیروئن کی زیادتی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلا گیا۔ لورین نے اس واقعے کا الزام خود پر لیا کہ کاش کہ وہ اپنے بھائی کو علاج کے لیے راضی کر سکتی لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ کچھ ہی عرصے بعد لورین نے خودکشی کی کوشش کی اس دن مدر ڈے تھا اور لورین کی والدہ اپنی بیٹی کی زندگی کے لیے دعائیں مانگ رہی تھی اور سوتیلے باپ کے مطابق نشے کی زیادتی کی وجہ سے بیٹے کی موت کے بعد میں ایسا کبھی بھی نہیں چاہتا کہ میری سوتیلی بیٹی کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہو۔ گزشتہ سال، لورین کو مرکز بحالی میں لایا گیا اور وہاں وہ کرسٹی سے ملی اور علاج سے جلد دستبردار ہو گئی اور پھر کرسٹی اور لورین نے اکھٹے رہنا شروع کر دیا۔

  • 1
  • اگلا صفحہ:
  • 2