محبت اور تعلقات

2

جب یہ حقیقت دل میں اتر آجائے تو پھر ہم ذہنی طور پر تیار ہو جاتے ہیں کہ ان دو رستوں میں سے کس کا انتخاب کرنا ہے؟اول مثبت کہ آیا اس تنکا تنکا بکھرے رشتے کو پھر سے سمیٹ کر آباد کرنا ہے، دوئم منفی قدم کے طور پر اسے مزید بکھرنے کیلئے طوفان بادوباراں کی نظر کر دینا ہے؟

پہلے ہم مثبت قدم کی بات کرتے ہیں، جب آپ ذہنی تو پر تیار ہو جائیں تو پہلااور اہم نکتہ یہ ہے کہ مجھے اپنی کھوئی ہوئی عزت جیون ساتھی کے دل میں بحال کرنی ہے، یہ میری متاع تھی جو مجھے واپس حاصل کرنی ہے، وہ کھویا ہوا مقام دل میں دوبارہ بحال کرنا ہے۔ اپنے جیون ساتھی، اپنے شریک سفر کو واپس اپنے دل کے آئینہ میں سجانا ہے جو کسی نے چرا لیا ہے، چھین لیا ہے یا وہ خود غلطی سے بھٹک گیا ہے۔ اس موقع پر بہت سے وسوسے، خدشات دل کو آ گھیرتے ہیں جیسے اب میں سابقہ اعتماد کھو چکا ہوں تو کیسے وہ عزت وہ مقام دل میں حاصل کر پاؤں گا؟

بقول شاعر
؂ ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں، توڑ دیتا ہوں
سوچتاہوں، کہیں ایسا نہ ہو جائے، کہیں ویسا نہ ہو جائے

مگر ایسے موقع پر اگر آپ مصمم ارادہ باندھ لیں تواپنے نیک مقصد کی طرف چل پڑیں، اسے چیلنج یا مہم سر کرنے کے طور پر لیں اور وہ کریں جو دماغ کہتا ہے نہ کہ دل، تو پھر آپ دیکھیں گے کہ گلے شکوے اپنا وجود برقرار نہیں رکھ پائیں گے اور آپ اپنے معاملات کو بحالی کی جانب موڑتے ہوئے آہستہ آہستہ صحیح سمت کی طرف رواں دواں ہو جائیں گے اور یہ امید بر آئے گی کہ مستقبل قریب میں آپ اپنا قابل فخر عہد بہاراں، مقام گمشدہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس کے ساتھ اگر آپ چند احتیاطی تدابیر اور مشوروں کو زادہ راہ بنا لیں تو جانب منزل سفر میں بھٹکنے کے امکانات معدوم ہو جاتے ہیں اور منزل پھوٹتی شفق کی ماند صبح نو کی نوید دینے لگی ہے۔

اول: اپنے ذہن سے یہ وہم نکال دیں کہ جو رشتہ ماضی قریب میں تھا اس وقت درست اور مثالی تھا، اگر وہ مثالی ہی تھا تو پھر یہ دراڑ کیوں آئی۔ یقیناً کسی ایک موڑ پر تو معاملات کشیدہ ہونے شروع ہوئے جو آہستہ آہستہ اس نہج پر پہنچ گئے کہ نوبت اس انجام تک جا پہنچی۔

دوئم: اس میں دوطرفہ ایسی قباحتیں ہو سکتی ہیں۔ اس رشتے میں کہیں نظر ثانی کرنی پڑے گی جو اس بگاڑ کا موجب بنیں۔

سوئم: اس مرحلے میں آپ اپنے ٹوٹے رشتے سے اعتماد کو بحال کرتے ہیں، یہ ہر گز آسان کام نہیں اس میں کھلے دل و دماغ کے ساتھ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے حالات و واقعات کا جائزہ لیں، اپنا ماضی کھنگالیں کہ ماضی میں ہم یا مجھ سے کیا غلطی ہوئی، کیسے ہوئی اور پھر اس کی درجہ بندی بھی کریں۔ آپ دیکھیں گے کہ آپ خود کو کہیں خطاکار پائیں گے۔

  • 1
  • 2
  • اگلا صفحہ:
  • 3

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments