محبت اور تعلقات

2

لہذٰا جب فیصلہ ہو چکے کہ بے وفائی کے مرتکب ساتھی کو راہ راست پر لانا ہے تو غصہ میں جیون ساتھی کا جو کرنے کو دل کرے وہ اس کا اُلٹ کرے، جیسے برا بھلا کہنے کو دل کرے تو، اچھے انداز سے پیش آئیں، گلے شکوے کرنے کا دل کرے تو اچھی یادوں کو، ساتھ بیتے ہوئے اچھے دنوں میں اس کے احسانوں، نوازشوں اور محبتوں کا ذکر چھیڑا جائے۔ وہ آپ کو اپنے پاس پا کر فرحت و تازگی و شادابی محسوس کرے۔ یعنی اگر آپ ہر وقت طعنے دیں، تو ہین کریں، شرمندہ کریں، نکتہ چینی کریں اور کسی وقت اگر کوئی تازہ جرم نہ بھی کیا ہو تو پرانے سرزد جرم کو ہی تازہ کریں تو یہ رویہ ٹھیک نہیں۔ ایسے شریک حیات واپس دل میں نہیں اترے گا، بلکہ دل میں یہ بات دہرائیں کہ اگر ایسا موقع میرے ہاتھ لگا تو میں اسے جانے نہیں دونگا، میں ضرور فائدہ اُٹھاؤں گااور اپنے ٹوٹے ہوئے تعلقات کو بحال کروں گا۔ اس کیلئے قربانیاں یا شہید وفا بننے کی بھی ضرورت نہیں۔ایک بات کا خیال رہے زخم خوردہ ساتھی جلد اعتماد کرنے کی حالت میں نہیں ہوتا جبکہ بے وفائی کے مرتکب کی بڑی تمنا ہوتی ہے کہ مجھ پہ پہلا سا اندھا اعتماد کیا جائے۔ لہذٰا نہ تو اعتماد کرنے کا تقاضا کیا جائے اور نہ ہی اس فعل کو روکا جائے۔ اعتماد یا تو ہوتا ہے یا پھر نہیں۔ اسے فطری طور پر آگے بڑھنے دیں اور اسے ساتھی سے طلب مت کریں۔

آپ دیکھیں گے معاملات خود بخود راہ راست پر آنا شروع ہو جائیں گے۔ جب کبھی ناکام جیون ساتھی ہونے کا احساس دل کو چھوئے تو یہ بات ذہن میں رہے کہ بہت کم شرح ایسی شادیوں کی ہے جو حادثات سے بچتی ہیں اور کامیاب شادیوں کے زمرے میں آتی ہیں۔ ویسے عام خیال یہی کیا جاتا ہے کہ یہ میاں بیوی بہت ہنسی خوشی رہ رہے ہیں مگر ایسی بات نہیں ہوتی، تقریباً نوے فیصد شادیاں رنج و الم سے بھری ہوئی ہوتی ہیں اور انہیں خوشگوار بنانے کیلئے اس فن میں خاص کر خواتین کو ہنر مند ہونے کی ضرورت ہے۔ جیسے شادی شدہ زندگی کے اسرارورموز، تقاضے کیا ہیں؟ انہیں کیسے پورا کریں؟ وہ سیکھے جائیں کیونکہ شادی سے پہلے یہ نہیں سکھائے جاتے۔ اپنے سسرال اور میکے سے تعلقات کیسے اچھے بنا کر رکھیں؟ رشتوں کو ہمیں ایک ویلو، ایک اعلیٰ قدر کے طور پر لینا سیکھنا چاہئے، ہر رشتہ تعلق جو ہمیں زندگی میں ملتا ہے اُس کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں چاہے آپ کا ادنیٰ ملازم ہی کیوں نہ ہو۔ مرد ایسے معاملات میں زیادہ سمجھداری کا مظاہر ہ کرتے ہیں بہ نسبت خواتین کے۔ مرد یا تو جیون ساتھی کو چھوڑ دیتے ہیں یا پھر دوبارہ اپنا بنا لیتے ہیں۔ وہ درمیانی حالت میں نہیں رہتے۔

دوسری طرف یہ جو ایک عام تاثر پایا جاتا ہے کہ مرد تو پیدائشی بے وفا ہوتے ہیں ایسا ہر گز نہیں ہے۔ یہ معاملہ دونوں کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ اگرآپ کہیں کہ مرد ایسے ہوتے ہیں تو مرد بھی کسی عورت کی چاہت میں ہی ایسا کر رہے ہوتے ہیں، معاملے کے دوسری طرف ایک عورت ہی ہوتی ہے جو مرد کو بے وفائی کی جانب راغب کر رہی ہوتی ہے۔
دوسرا قدم جو منفی راستے کی جانب جاتا ہے اگر آپ اس سفر کے ہم سفر ہوئے تو یاد رکھیں پھر زندگی میں آپ کبھی آگے نہیں بڑھ پائیں گے یعنی کامیابی آپ کی تمنا کے برعکس ہر بڑھتے قدم کے ساتھ مزید دور ہوتی چلی جائے گی۔ اگرچہ ہر کوئی اپنے فیصلے میں آزاد ہے۔

لیکن اگر آپ کی صحت کبھی دھوکہ دے جائے یا کسی کو ذیابیطس ہو جائے تو کیا آپ اپنے جسم کو کاٹ کر پھینکنا چاہیں گے؟ اصل بات یہ ہے کہ آپ اس بیمار حصہ کو دوبارہ صحت یاب کرنا چاہیں گے۔ بالکل اسی طرح شریک حیات کا بھی معاملہ ہے۔ لیکن اگر کوئی تعلق کی بحالی سے پیچھے ہٹ جاتا ہے تو وہ دوسروں سے کٹ کر رہ جاتا ہے۔ اس کی زندگی میں دلچسپی ختم ہو سکتی ہے جو کہ بہت ہی نامناسب اور کمزور ذہن کی عکاس ہے۔ ایسی سوچ رکھنے والوں کو پھر اسی طرح کسی اور پر بھی بھروسہ نہیں رہے گا تو وہ اسے بھی چھوڑ دیں گے تو پھر یہ سلسلہ چل نکلے گا۔ بعض معاملات میں جیون ساتھی ڈھٹائی سے خود کو قصور وار بھی مانتا ہے اور اصلاح بھی نہیں چاہتا تو یہ چوری اور سینہ زوری کے زمرے میں آتا ہے یعنی ایک غلطی اور دوسرا بغیر ندامت اس کا اقرار بھی۔ اس طرح کے معاملات کا حل کلام، نرم و نازک سے ممکن نہیں۔ایسے معاملات میں انٹروینشن کی جاتی ہے خاندان کا اثرو رسوخ استعمال کیا جاتا ہے اور یقین مانئے خاندان سے زیادہ اثرو رسوخ اور کسی کا نہیں ہوتا۔ خاندان سے مراد، ماں باپ، بیوی بچے، بہن بھائی وغیرہ ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments