ہمیں زندگی میں بہت سی بے مول صلاحیتیں اور خوبیاں مل جاتی ہیں جو ہمارے دنیا میں جنم لینے سے پہلے ہی جنم لے لیتی ہیں۔ جیسے کہ بہتی محبت کا دریا اور دھکتی دوپہروں میں گھنی نیم کی چھاؤں کی ماند راحت اور تازگی کا احساس دلانے والے رشتے۔ مگر صد افسوس کہ یہ بے مول موتیوں کی مالا ہم خود اپنے ہی ہاتھوں توڑ ڈالتے ہیں، مفت میں ملی میراث ہو خود اپنے ہی ہاتھوں برباد کر بیٹھتے ہیں۔ مگر کیوں؟ سادہ سا جواب ہے اپنی کم عقلی، اپنی ہٹ دھرمی، اپنی انا، اپنی خود غرضی اور اپنی نا سمجھی کو اعلیٰ سمجھی سمجھنے کی بنا پر۔ ہے نہ یہ بڑی حیرت کی بات! مگر ہمیں یہ بات پھر بھی آسانی سے سمجھ نہیں آتی کیونکہ ہم عین الیقین پر یقین رکھتے ہیں سنی سنائی باتوں پر نہیں تو پھر ہمیں خود اس سراغ کی تلاش میں دور ذہن کی سرحدوں تک پیچھے کرنے کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ قصور وار کوئی اور نہیں اپنی ذات بے مثال وباکمال ہی ملوث و قصور وار ہے۔

upper

Habib Jan

حبیب جان ولنگ ویز میں بطور ایچ آر منیجر 2015 سے خدمات سرانجام دے رہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ وہ گرافکس اور ویب ڈیپارٹمنٹس کے معاملات کو بھی مونیٹر کرتے ہیں۔ آپ نے یو-ایم-ٹی سے ایم-بی-اے (ایچ آر) کیا ہے۔ آپ کو شروع ہی سے فنون لطیفہ سے گہری دلچسپی تھی، پرفامنگ آرٹ ہو، میوزک ہو یا ادب کی محفل آپ ایسی کسی بھی محفل میں اپنے چاہنے والوں کو اپنے فن سے محظوظ کرتے رہے ہیں۔ اوائل عمر ی میں ریڈیو پاکستان کے پلیٹ فارم سے گورنر ہاؤس پنجاب میں ملی نغمہ پیش کیا اور گورنر صاحب نے نقد اور تعریفی سیرٹیفیک سے نوازا۔ الحمرا آرٹ کونسل سے استاد محمد علی سے موسیقی کی تربیت حاصل کی۔ اس دوران ٹیلی ویژن پر پلے اور ترکش ڈرامے کی ڈبنگ میں بھی اپنے فن کے جوہر دکھائے۔

lower

انسان کیونکہ خطا کا پتلا ہے اور غلطی سرزرد ہونا ایک فطری عمل ہے لہذا جب آپ کسی کے دل سے اتر جائیں اور آپ کی محبت دوسرے کیلئے بے وقت اور بے معنی سی ہو جائے یا یوں کہیں کہ کسی رشتے میں اعتماد کی فضا اب پہلے جیسی سازگار و خوشگوار نہ رہے، بدگمانی اور شک ان مقدس رشتوں کی بنیادوں میں اپنا رنگ گھولنے لگے تو ایسی حالت میں ہم کیا کریں؟ ویسے تو ہم کسی بھی رشتے کی بحالی کی مثال دے سکتے ہیں مگر جب تعلق خاص کر میاں بیوی کا ہو۔

دیکھیں سب سے پہلے جب جیون ساتھی پر یہ حقیقت کھلتی ہے کہ رشتے میں اب دراڑ آ چکی ہے، وہ بے وفائی کا مرتکب ہو چکا ہے جس کی اسے توقع نہیں تھی تو سب سے پہلے وہ ان کیفیات سے گزرتا ہے مثلاً صدمہ ہوتا ہے، غصہ آتا ہے، مزید نقصان کا احساس ہوتا ہے، جذبات مجروح ہوتے ہیں، توقعات کا چراغ گل ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے، وابستہ اُمیدیں اور خوشیاں کرچی کرچی ہو جاتی ہیں۔ ایسی حالت میں وہ اپنے آپ کو دنیا کا مظلوم ترین شخص سمجھنے لگتا ہے، روتا ہے کڑھتا ہے اور اپنے کسی ہم راز کو آپ بیتی سنا کر ہمدردی کے چند بولوں کی توقع کرتا ہے۔ جب وہ اس صدمے کا شکار ہوتا ہے تو گویا تخلیقی صلاحتیں سلب سی ہو جاتی ہیں کیونکہ جب یہ صدمہ شعور کو متاثر کرتا ہے تو شعور اپنا کام احسن انداز سے کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔
ہاں مگر لاشعور، معمول کے کام سرانجام دیتا رہتا ہے۔

ایسے میں سب سے پہلے اپنے آپ کو نارمل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ’’ بحالی صدمہ‘‘ کے مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس مرحلے میں خود کو یہ سمجھانا مقصود ہوتا ہے کہ جس حادثے کا شکار آج میں ہوا/ہوئی ہوں، جو کوئی انہونی، تعجب، اچنبھے کی بات نہیں، ازل سے انسان کے ساتھ ایسا ہوتا آیا ہے۔ ارتقاء اس ازلی دنیا کا دستور ہے جہاں سدا ایک سا موسم ایک سی فضا اورایک سی دل ربا گھٹا چھائی نہیں رہتی، یہاں ہر پل، ہر گھڑی تغیروتبدل معمول کی بات ہے، دیکھیں! جو آج جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ رہا ہے کل اسے بڑھاپے کی سنگلاخ راہوں پر تنہا مہو سفر ہونا ہو گا۔ یہاں ماں باپ کا سہارا چھوٹ جاتا ہے، دوست احباب محفل یاراں چھوڑ کر دیار غیر چلے جاتے ہیں، نوکری چلی جاتی ہے، حتیٰ کہ آپ کی صحت گر جاتی ہے تو ایسے میں اگر آپ کا جیون ساتھی بے وفا ہو جائے تو سمجھ لیجئے کہ یہ بھی ممکن ہے کوئی خلاف قدرت عمل نہیں ہوا۔ اگر ہم دل کو سمجھانے کیلئے ایسا سوچیں کہ یہ دنیا کا نظام ہمارے ہاتھ میں نہیں کوئی ’’مالکِ طاقتِ کل‘‘ کنٹرول کر رہا ہے تو یہ بات بہت جلد سمجھ آ جائے گی، یہ اس کی منشا و رضا ہے کہ وہ یہ کائنات کیسے چلانا چاہ رہا ہے۔

  • 1
  • اگلا صفحہ:
  • 2
  • 3