رائٹر : آمنہ نواز

عمومی رائے کے مطابق، ہمارے معاشرے میں عورت کو ایک مظلوم طبقہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن صورتحال کا بغور جائزہ لیا جائے تو ہمارے معاشرے کا مظلوم طبقہ عورت نہیں بلکہ مرد حضرات ہیں۔ یقیناََ یہ ایک حیرت انگیز انکشاف ہے لیکن ایک حقیقت بھی ہے۔ بہت چھوٹی عمر سے ہی لڑکوں کو تربیت کے نام پر کچھ ایسی باتیں سکھائی جاتی ہیں جن سے انکی شخصی نشوو نما اور ذاتی رائے بہت متا ثرہوتی ہے۔ مثلاََ لڑکے روتے نہیں، لڑکے گھر کا کام نہیں کرتے یہ کام تو صرف عورتوں کا ہے، لڑکے لڑکیوں سے زیادہ قابل اور ذہین ہوتے ہیں، لڑکے ہر لحاظ سے لڑکیوں سے بہتر ہوتے ہیں وغیرہ۔ کسی کے گھر بیٹے کے پیدا ہونے کو باعثِ نعمت اور فخر سمجھا جاتا ہے اور بیٹی کو آزمائش یا اس کی ماں کو طعنہ دینے کا ایک بہانہ۔ آج بھی ہمارے معاشرے میں لوگ کسی کے گھر بیٹی پیدا ہونے پر کُھل کر مبارک باد دینے میں جھجھک محسوس کرتے ہیں اور اس بات پر خوشی کا اظہار کرنا بھی زیادہ مناسِب نہیں سمجھتے۔ بعض اوقات تو نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ اگر کسی کے گھر ایک کے بعد دوسری بیٹی پیدا ہو تو لوگ ان سے دبے لفظوں میں اظہارِ افسوس بھی کرتے ہیں اور اگلی بار”خُدا کے کرم” کی اُمید اور دُعا دیتے ہیں۔

ہمارا معاشرہ بیٹوں کو بے انتہا اہمیت دینے کے باوجود بھی ان کی کردار سازی اور تربیت پر بہت کم غور اور محنت کرتا ہے۔ بہت بچپن سے ہی ان پر مرد ہونے کا بھاری بوجھ ڈال دیا جاتا ہے جس کو اُٹھاتے اُٹھاتے ان کی ساری زندگی خود کو “مرد” ثابت کرنے میں ہی گزر جاتی ہے۔ ایک سولہ سال کی لڑکی جب اپنا کمرہ صاف نہیں رکھتی تو اسے سمجھایا جاتا ہے کہ اس نے ایک دن “اگلے” گھر جانا ہے لہذٰا وہ خود کو منظم کر لے، لیکن جب ایک سولہ سال کا لڑکا اپنے کمرے کو گندہ رکھتا ہے تو چونکہ اس پر ایسا کوئی دباؤ نہیں ڈالا جاتا لہذٰا اس کے کمرے کی صفائی اس کی والدہ خود ہی کرواتی رہتی ہے، اس امید پر کہ اس کے بیٹے کی شادی کے بعد اس کی بیوی آکر یہی کام کر دیا کرے گی۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے کہ جب لڑکیاں “اپنی مدد آپ” کااصول اپنانا سیکھتی ہیں جبکہ لڑکوں کو اپنے بنیادی کاموں کے لئے بھی دوسروں پر انحصار کرنا سکھایا جاتا ہے۔ والدین کے لئے تو دور، لڑکے کا تو اپنے لئے بھی اُٹھ کر پانی کا گلاس لانا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ عمل اس کی “مردانگی” کے خلاف تصور کیا جاتا ہے اور چونکہ لڑکیوں پر خود کو عورت ثابت کرنے کا کوئی دباؤ نہیں ہوتا لہذٰا وہ اس معاملے میں سُکھی رہتی ہیں۔

ہمارا معاشرہ مردوں کو یہ بھی سکھاتا ہے کہ عورتوں کی جانب منفی رویہ اختیار کرنا چاہیئے اور اسے بھی “مردوں کی شان” ہی سمجھا جاتا ہے۔ عام طور پر ماں کی طرف مثبت رویہ اختیار کرنے کا سبق دیا جاتا ہے لیکن لڑکے وہ بھی کم ہی کرتے ہیں۔ وہ ساری عمر ماں کو تنگ کرتے ہیں اور جب ان کی شادی ہوتی ہے تو اچانک ان کو خیال آتا ہے کہ ماں بہت اہم ہوتی ہے۔ پھر وہ اپنی بیوی کو کہتے ہیں کہ اگر تُم میری ماں کی خدمت کرو گی تو ہی میں تُم سے خوش رہوں گاورنہ نہیں۔ لیکن مرد خود کبھی اپنی ماں کی خدمت کا نہیں سوچتے۔حقیقت تو یہ ہے کہ جس آدمی نے صحیح معنوں میں ماں کی یعنی ایک عورت کی خدمت کی ہوتی ہے، وہ دوسری عورت کا بھی خیال رکھتا ہے اور جس نے اپنی ماں کی خدمت نہیں کی ہوتی وہ کسی اور عورت کا بھی خیال نہیں رکھ سکتا۔ ہمارا معاشرہ ماں کی عظمت کی تو بہت بات کرتا ہے لیکن جب اس کی خدمت کرنے کی باری آئے تو وہاں بھی کسی دوسری عورت کی ہی مدد لی جاتی ہے مثلاََ بیٹی یا بہو۔ مرد بیچارے تو کُھل کر اپنی ماں کی خدمت بھی نہیں کر پاتے کیونکہ شاید اس سے بھی ان کے “مرد” ہونے کے عہدے کو نقصان پہنچنے کے خطرات ہوتے ہیں۔

اسی طرح بہنوں کے ساتھ بھی کوئی خاص مثبت رویہ نہیں رکھا جاتا اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی مذہبی آرڈر ہے۔ بیوی کے بارے میں بھی کوئی خاص مذہبی آرڈر نہیں ہے۔ لیکن ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ خُدا چاہتا ہے کہ مرد اپنی بیوی کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ ایک طرف تو خُدا چاہتا ہے کہ ہم ماں باپ کے آگے اُف تک نہ کریں، ہم ہمسایوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں، ہم سفر میں ہم راہیوں کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آئیں، ہم یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ شفقت سے پیش آئیں اور ان کا حق نہ ماریں، ہم اپنے ملازموں کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں، جیسا خود کھائیں ویسا انہیں بھی کھلائیں، ان کی ستر غلطیاں معاف کر کے سوئیں۔ لیکن دوسری طرف کیا خُدا یہ چاہے گا کہ آپ شام کو گھر آئیں اور اپنی بیوی کی پٹائی کریں؟ یقیناََ نہیں۔ خُدا نے اتنے سارے لوگ جن کی بعض اوقات ہماری زندگی میں کوئی خاص اہمیت بھی نہیں ہوتی یا جنہوں نے ہم سے دوبارہ ملنا بھی نہیں ہوتا جیسے سفر میں ہم راہی، غریب، مسکین، ملازم وغیرہ، جن کا ہمارے ساتھ کوئی رشتہ بھی نہیں ہوتا، ان کے ساتھ حُسنِ سلوک کا حکم دیا ہے۔ توبیوی کے ساتھ خُدا منفی رویہ اختیارکرنے کا حکم نہیں دے گا۔

جب دو لوگ آپس میں شادی کے بندھن میں بندھتے ہیں تو عورت مرد کو اپنا نگہبان اور سرتاج سمجھتی ہے اور مرد بھی خود کو اپنی بیوی کا سرتاج اور مجازی خُداہی سمجھتا ہے۔ مگر ان دونوں کی نظر میں نگہبان کے معانی یکسر مختلف ہوتے ہیں۔ بیوی کے مطابق نگہبان سے مراد تحفظ دینے والا ہے جبکہ شوہر سمجھتے ہیں کہ نگہبان کا مطلب ہے حکمران یا بیوی کے تمام معاملات پر حکومت کرنے والا۔ خُدا نے شوہر کو نگہبان بنایا ہے۔ نگہبان سے مراد وہ شخص ہے جو آپ کی بہتری چاہتا ہے، آپ کو تحفظ دیتا ہے اور آپ کو دُنیا کے سامنے بھی اور تنہائی میں بھی عزت دیتا ہے۔ دوسری جانب خُدا نے بیوی کو یہ اختیار بھی دیا ہے کہ اگر وہ کمانا نہیں چاہتی یا اپنے شوہر کے والدین کی خدمت نہیں کرتی تو اس بارے میں اس سے نہیں پوچھا جائے گا۔ اگر وہ اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہے، ان کی تربیت کرتی ہے تو وہ اپنے شوہر سے بدلے میں معاوضہ بھی طلب کر سکتی ہے۔ یہ تمام چیزیں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ بیوی کو چاروں طرف سے محفوظ کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بیوی شوہر کی رومانوی خواہشات کو بھی پورا کرتی ہے اور جس کے ساتھ آپ رومانس کرتے ہیں اس کی تو خوب آؤ بھگت ہونی چاہیئے۔ لیکن مرد عموماََ اپنے دوستوں میں بیٹھ کر یہ کہنا زیادہ پسند کرتے ہیں کہ وہ اپنی بیوی کی بالکل پرواہ نہیں کرتے کیونکہ معاشرہ انہیں یہ کہنے کی کُھلی اجازت دیتا ہے۔ انسان کبھی بھی یہ کہنا نہیں چاہتا کہ اُسے کسی کی پرواہ ہے بلکہ وہ یہ چاہتا ہے کہ اس کی پرواہ کی جائے۔ جس طرح کوئی شخص جب ملازمت کے لئے درخواست دیتا ہے تو وہ یہ نہیں کہتا کہ اس نے فلاں جگہ نوکری کی درخواست دی ہوئی ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ پسند کرتا ہے کہ اسے فلاں جگہ سے نوکری کی پیشکش ہوئی ہے۔ اسی طرح شوہر حضرات بھی یہ کہنا پسند کرتے ہیں کہ میری بیوی میرے لئے تڑپتی ہے اور اسے میری بہت پرواہ ہے لیکن میں نہیں تڑپتا۔ وہ یہ کہنے میں عار محسوس کرتے ہیں کہ وہ اپنی بیوی سے بہت پیار کرتے ہیں اور اس کی بہت پرواہ کرتے ہیں۔

ہمارا معاشرہ شادی سے پہلے تو مرد کو عورت کے پیچھے جانے، اس کی توجہ حاصل کرنے، اس کو متاثر کرنے یا پھر اس کو “رام” کرنے کی تو کھلی اجازت دیتا ہے لیکن جب وہی عورت بیوی بن جاتی ہے تو شوہر کو “مرد” بننے کا حکم صادر کر دیا جاتا ہے۔ شادی سے پہلے اگر لڑکا لڑکی کے کالج کے باہر اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے کئی گھنٹوں انتظار کرے تو اس کو” ہیرو” کا لقب دیا جاتا ہے۔ لیکن وہی لڑکا شادی کے بعد اپنی بیوی کے دفتر کے باہر چھٹی کے وقت اسے لینے کے لئے چند منٹ انتظار کرنے کو بھی اپنی تو ہین سمجھتا ہے۔ وہ اس کے لئے گاڑی کا دروازہ بھی نہیں کھول سکتا ۔کھانے کی میز پر اسے کھانے کی پلیٹ بھی پیش نہیں کر سکتا۔ یہ سوچ کر کہ بیوی اس کا گھر پر انتظار کر رہی ہو گی، شوہر شام کو دوستوں کی محفل سے جلدی گھر جانے کی خواہش کا اظہار بھی نہیں کر سکتا کیونکہ معاشرہ اس کو بیوی سے ڈرنے کا طعنہ دیتا ہے۔ ہمارا معاشرہ شاید شوہر کو بیوی پر کھلے عام ہاتھ ا ٹھانے کی اجازت تو دے دیتا ہے لیکن بیرون ملک سفر سے واپسی پر ائیر پورٹ پر موجود افراد خانہ کی لمبی قطار میں کھڑی صرف ایک بیوی سے ہی گلے ملنے کی اجازت نہیں دیتا۔ شوہر سب کے سامنے اپنی بیوی پرفوقیت حاصل کرنے کیلئے بیوی کا مزاق بھی اڑاسکتا ہے اور اس پر تنقید کی بوچھاڑ بھی کرسکتا ہے۔ لیکن وہ محفل میں بیٹھ کر اپنی بیوی کی تعریف میں چند الفاظ کہنے سے ضرورشر ماتا ہے کیونکہ اس سے اسے اپنی بیوی کے “نیچے” لگنے کا خطاب ملنے کا ڈر ہو تا ہے۔ عورت کی عزت کی تو بہت حفاظت اور بات کی جاتی ہے، لیکن مردوں کی اس عزت کا کیا کیا جائے جو اس قدر غیر محفوظ رہتی ہے کہ اس عزت کو بچانے کی خاطر ساری زندگی وہ نہ تو کھل کر رو سکتا ہے ،نہ اپنے دکھ کا بر ملا اظہار کر سکتا ہے اور نہ ہی اپنے تمام کام خود کر سکتا ہے۔ اسے کھل کر صرف غصے کا اظہار کرنے کی ہی اجازت ہو تی ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے نے مردوں پر خود کو “مرد” ثابت کر نے کا بھاری بوجھ ڈال کر ان پر بہت بڑا ظلم کیا ہے۔ اور اس ظلم میں نہ صرف مرد بلکہ عورتیں بھی شامل ہیں۔ مردوں کی اس قسم کی ٹریننگ کر نے میں خود ماؤں کا بہت اہم کردار ہے۔ وہ شروع ہی سے اپنے بیٹوں کو بیٹیوں پر ترجیح دیتی ہیں جس سے مرد خود کو اعلیٰ مخلوق سمجھ کر عورتوں پر ظلم کر نا جائز سمجھتے ہیں اور عورتیں خود کو کو ئی کم تر مخلوق سمجھ کر وہ ظلم برداشت کر تی ہیں۔ یاد رہے کہ تشد د صرف جسمانی ہی نہیں بلکہ جذباتی اور نفسیاتی بھی ہو تا ہے۔ اور ہمارے معاشرے کے شوہر حضرات کئی عرصے سے اپنی بیویوں پر جذباتی تشدد کر نے، اور بیویاں یہ تشدد سہنے کی عادی ہو چکی ہیں اور اپنی آنے والی نسلوں کو بھی ذہنی طور پر تیار کرتی ہیں کہ “مرد تو ہوتے ہی ایسے ہیں”۔ قابل رحم بات تو یہ ہے کہ اس تشدد کے باوجود بھی مرد اپنی “مردانگی” سے مطمئن نہیں ہوتے۔ انہیں تنہائی میں اپنے ضمیر سے یہ آواز ضرور سنائی دیتی ہے کہ وہ درحقیقت کو ئی اعلیٰ مخلوق نہیں ہیں اور اس آواز کو خاموش کر نے کیلئے انہیں پھر سے عورتوں سے اپنے مرد ہو نے کی”سند”درکار ہو تی ہے۔ اور تشدد کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہتا ہے ۔یہ سچ ہے کہ مردوں کو “مرد” ہو نے کی بہت بھاری قیمت ادا کر نی پڑتی ہے ۔تمام عمر اتنی تگ ودوکے بعد بھی عزت نفس کا پھل ان کی جھولی میں نہیں گرتا۔مرد یقیناً عورت سے زیادہ مظلوم ہے لہذا وہ عورت سے کہیں زیادہ موثر تر بیت، مدد اور ہمدردی کا مستحق ہے ۔