ایڈیٹر: سحرش سرفراز

زمانہ حال میں، جیسا کہ ہم جا نتے ہیں بچے عمومی طور پر کیسے اپنے والدین کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہیں اور والدین کے خلاف غصہ اور شکایتیں جاری رکھتے ہیں اور پھر انہی سب کی نمائش اپنے رویوں سے کرتے ہیں۔ جیسا کے بحث کرنا، گندی زبان کا استعمال کرنا اور یہاں تک کے ان کو مارنا یا ان پر ہاتھ اُٹھانا بدلے میں والدین اپنی حالت یا پوزیشن، طاقت کو ان پر برقرار رکھتے ہیں۔ یہ اِن کیساتھ برے الفاظ(گالم گلوچ)مار پیٹ کرتے ہیں۔ اور ان سے کچھ سہولیات واپس لے لیتے ہیں۔ لیکن اصل مسئلہ یہاں تک محدود نہیں ہوتاہے۔اگر آپ اپنے ارد گرد دیکھیں اور اپنے سماج کا مشاہدہ کریں تو آپ یہ بات جان سکیں گے کہ یہاں کتنے بچے ایسے ہیں جو اپنے والدین سے لڑائی جھگڑا کرتے ہیں۔ اس مضمون میں ہم مندرجہ ذیل بچوں کا گھر پر دنگا فساد کرنے والے چند ایک رویوں پر بات کریں گے۔ تین طرح کے بچے، جو اپنے والدین کے ساتھ دنگا فساد کرتے ہیں۔ تین ایسی غلطیاں جو والدین ردعمل کے طورپرکرتے ہیں اور ساتھ ہی تین ایسی بڑی وجوہات کہ کیوں والدین بچوں کودنگا فساد کرنے پر چھوڑ دیتے ہیں۔

مزید براں میں یہ تفصیل سے بیان کرتی ہوں کے والدین کیوں گھر پر اپنی راہنمائی برقرار رکھنے میں ناکام ہوتے ہیں۔ یہ تمام باتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے سب سے پہلے نتیجے پر بات کرتے ہیں۔ جب بچوں کے دنگا فساد کے رویوں کو نوٹس میں نہ لایا جا رہا ہو تو وہ سب جو وہ کرتے ہیں ان کی قیمت والدین ادا کرتے ہیں۔
جب والدین گھر پر بچوں کے دنگا فساد کرنیولے رویوں سے معاملہ طے نہیں کر پاتے تو انہیں بہت سخت نتایئج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ بچے جودنگا فسادکرتے ہیں۔ وہ ان تمام منفی اثرات کو اپنے تعلقات میں تخلیق کرتے ہیں۔ جیسے
بڑھتی ہوئی فطرابیت،
اضطرابیت،
نرگیسیت،
فوری طور پر منظوری،
ہمدردی کا نہ ہونا،
خراب تعلقات۔
سماج دشمن رویہ،
بچپن کے تجربات شخصیت کی نشوونما میں اہم کردارادا کرتے ہیں تومنفی سوچیں نوجوانوں کو غلط راہ پرلے جاتی ہیں۔ اور وہ کسئی طرح کی بیماریوں اور مسائل کاشکار ہو جاتے ہیں جیسے کیمیکل یا نان کیمیکل ایڈیکشن، جذباتی پریشانی۔ غلط کھانے کے اوقات: موٹاپا یا anorexia nervosa تعلقات کی خرابی ہیرا پیھری یادیگررویوں کے مسائل۔