ایک بڑی بی نے اپنے بوڑھے شوہر کو آواز دی کہ
“اے جی سنئیے گا
یہ الماری کا پٹ نہیں کھل رہا”
بوڑھا شوہر آگے بڑھا اور کھولنے کی کوشش کی لیکن زیادہ کامیاب نہ ہو سکا۔
انکا جوان بیٹا آگے بڑھا، ذرا سا زور لگایا، دروازہ آسانی سے کھل گیا۔
وہ غصے سے بولا: “لو جی، یہ بھی کوئی مشکل کام تھا”

باپ مسکرایا اور بولا

“بیٹا یاد ہے؟
جب تو بچہ تھا اور گھر کا دروازہ کھولنے کی کوشش کرتا تھا
تو میں جان بوجھ کر آہستہ آہستہ
تیرے لئے دروازہ کھولنے میں اس طرح مدد کرتا تھا
کہ تو سمجھے کہ دروازہ تو نے خود کھولا ہے
تاکہ تیرے اندر اعتماد آئے ،
تیرا دل نہ ٹوٹنے پاۓ
اور تیری ہمت بڑھے”

باپ کی بات سننا تھی کہ جوان بیٹا متوجہ ہو گیا اور اسکی آنکھوں سے آنسو جاری ہونا شروع ہو گئے


اسی طرح ایک دفعہ بوڑھے باپ نے بیٹے سے پوچھا
“یہ جو تو نے نئی گاڑی خریدی ھے اس کا نام کیا ہے؟

بیٹا بولا
“ھنڈا ”

چند گھنٹوں بعد بوڑھا باپ گاڑی کا نام بھول گیا
تو اس نے دوبارہ سوال کیا.

بیٹا حیران ہو کر بولا
“!ابو ھنڈا ہے ”

رات کو سونے سے پہلے باپ نے پھر سوال کیا کہ کیا نام بتایا تھا؟
اب تو جوان بیٹا کنٹرول نہ کر سکا اور غصے میں بولا
“آپ کو کتنی مرتبہ بتاؤں ھنڈا ھنڈا ھنڈا ! ”

باپ خاموش ہو گیا الماری سے 30 سالہ پرانی نوٹ بک نکالی اور بیٹے سے کہا
“ذرا اس کا یہ والا صفحہ تو پڑھنا ”

بیٹے نے بادل ناخواستہ صفحہ پڑھنا شروع کیا جس میں لکھا تھا
“آج میری خوشی کا بہت بڑا دن ہے
کیونکہ میرے بیٹے نے پہلی دفعہ لفظ چڑیا بولا
اور مجھ سے 25 مرتبہ کہا
بابا وہ کیا ہے
اور میں نے خوشی اور مسرت کے ساتھ 25 مرتبہ جواب دیا
بیٹا بولو
چڑیا چڑیا چڑیا ”

جوان بیٹا حیرانگی سے ایک ایک لفظ پڑھتا جاتا اور آنکھوں سے آنسوؤں کی برسات جاری ہو گئی


?کروڑوں سلام ہوں اس ماں پر کہ
جو دسترخوان پر
جب بھی غذا کم پڑنے لگتی
سب سے پہلا بندہ جو کہتا کہ:
“مجھے تو آج بھوک ہی نہیں ہے”
وہ ہے ماں

?حمل کے دوران
جب جب بچہ ماں کے پیٹ میں زور سے کہنی یا لات مارتا ،
تو خوشی سے سب کو بتاتی ،

لیکن اولاد کے پاس
آج رات کو سونے سے پہلے
اسکے پاؤں دبانے کیلئے وقت ندارد

?اے کاش کہ ایسا ممکن ھوتا کہ

أأزندگی آخر سے شروع ہوتی
کہ مرتے وقت ماں کی آغوش ملتی
اور جان نکلتے ہوے
اسکی میٹھی میٹھی لوری”

?ماں باپ جو بچوں کو خلوص دِل کے ساتھ انگلی پکڑ کر چلنا سکھاتے ہیں

لیکن کتنی عجیب بات ہے کہ
بچے انکی ویل چیئر پکڑتے ہوئے شرماتے ہیں.

?واقعی کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ

“ایک ماں باپ دس بچوں کو سنبھال سکتے ہیں،
لیکن دس بچے ایک ماں باپ کو نہیں سنبھال سکتے۔۔۔.”