میں نے ریسٹورنٹ میں بیٹھے کئی لوگوں کو اپنے فون پر مصروف دیکھا۔ حتیٰ کہ ایک خاتون کو اپنے شوہر کے مسلسل فون پر بات کرنے سے بیزار بھی محسوس کیا۔ وہ بات کرنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اسے دیکھ کر یوں لگ رہا تھا جیسے وہ صرف خود سے ہی بات کئے جا رہی ہے۔

یہ تو مجھے اپنی ہی تصویر لگی اور یہ صرف چند لوگوں کا مسئلہ نہیں ہے۔ کئی لوگ آج کے دور میں اپنے ساتھی کے فون کے زیادہ استعمال سے پریشان ہیں۔ لیکن ایسا کیوں ہے؟ کیونکہ فون پر زیادہ وقت دینا ان کے آپس کے وقت کو محدود کر دیتا ہے۔ یہ رویہ بہت ہی عام ہو چکا ہے حالانکہ اسے بہت ہی معیوب سمجھا جاتا ہے اور ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

پچھلے سال Mc Daniel اور Coyne کی کی ہوئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ سمارٹ فون کا زیادہ استعمال لوگوں کے تعلقات اور ملنے میں دخل انداز ہو سکتا ہے۔ ساتھی کا مسلسل فون پر مصروف رہنا دوسرے کے دل میں منفی جذبات پیدا کر سکتا ہے۔
phone-vr-family
اس سے جلن اور بغض کے جذبات بھی پیدا ہوتے ہیں جو کہ کسی بھی رشتہ کے لئے اور خاص طور پر ازدواجی زندگی کے لئے بہت ہی نقصان دہ ہیں۔ آپ کے ساتھی کو شک بھی ہو سکتا ہے کہ شاید فون کے ذریعے اس کے ساتھ دھوکا کیا جا رہا ہے۔

اسی طرح Hanna Krasnova کی ہوئی تحقیق بھی اس مسئلہ کو نئے زاویہ سے جانچتی ہے Krasnova نے اپنی تحقیق میں 26 سے 40 سال کے عمر کے مرد و خواتین کو شامل کیا۔ اس عمر کے لوگ عموماً فون کا استعمال بھی زیادہ کرتے ہیں اور اپنے لئے ساتھی کی تلاش میں ہوتے ہیں یا ساتھی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔

اس تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ خواتین اپنے ساتھی کے فون کے زیادہ استعمال کرنے سے قدرے زیادہ پریشان اور افسردہ ہوتی ہیں اور اس بات کی وجہ سے سوالات بھی کرتی ہیں یا خود بھی وہی عمل کرنا شروع کرتی ہیں۔ مردوں نے قدرے بہتر رد عمل اور کم افسردگی کا اظہار کیا۔

پرانی تحقیقات سے یہ بات پتہ چلی ہے کہ انسان رومانوی رشتوں میں کئی چیزوں سے جلن محسوس کرتا ہے اور آج کے دور میں سمارٹ فون سر فہرست ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ان کو معلوم ہے کہ ان کا ساتھی فون کے ذریعے کسی اور سے تعلق رکھ کہ ان کو دھوکا دے سکتا ہے۔

یوں سمارٹ فون کا زیادہ استعمال ازدواجی رشتوں میں مسائل پیدا کر رہا ہے۔