رائٹر:عتر ت زہرا

بچوں کی حفاظت کے تربیتی اُصول:

موجودہ دور کے مسائل میں ایک مسئلہ جو شدت سے اُبھر کے سامنے آیا ہے وہ ہے کہ کم عمر کے بچوں کے ساتھ جنسی درندگی۔ نفسیاتی سائنس نے جہاں انسانوں کے رویوں کے متعلق موثر مدد فراہم کی ہے۔ وہیں ایسے نازک اور حساس مسئلوں پر بھی نفسیات نے پیش قدمی کے ذریعے صورتِ حال پر قابو پانے کے کچھ طریقوں کو واضح کیا ہے۔
افریکن سائیکالوجیکل ایسوسی ایشن کے مطابق کوئی بچہ جنسی تعلق کے لیئے راضا مند نہیں ہو سکتا بلکہ بالغ افراد کی جانب سے ایسی کوشش کی مزاحمت کرتا ہے اسی لیئے یہ غیر اخلاقی جرم ہے۔ جسے معاشرے میں کسی طور قبولیت نہیں دی جاسکتی۔ جنسی درندگی سے بچوں کو بچانے کے لیئے ضروری ہے کہ والدین بچوں سے بات چیت کے ذریعے ان کو تربیت دیں۔ چند اہم باتیں جو بچوں سے کرنی چاہیۓ ان کا ذکر یہاں کیا جارہا ہے۔

سب سے پہلا کام جو والدین کو کرنا چاہیے وہ یہ ہیں کہ بچوں کو ان کے جنسی اعضاء کے حقیقی نام سکھائیں۔ حقیقی (Anatomical) نام نہ جاننے کی وجہ سے بچے ان اعضاء کے متعلق بات چیت نہیں کر پاتے۔ جیسے ہم بچوں کو تمام اعضاء کے نام سکھاتے ہیں کہ یہ پیٹ ہے یہ ٹانگیں ہیں اسی طرح حساس اعضاء کے نام بھی سکھائیں تا کہ وہ آسانی سے والدین کے ساتھ اس حساس موضوع پر بات چیت کر سکیں۔

اس کے علاوہ اپنے بچوں کو سکھائیں کہ وہ اپنے تمام جسمانی اعضاء کے (Boss) مالک ہیں۔ وہ اس معاملے میں خود مختار ہیں کہ ان کے جسم کو کون چھوئے گا۔ ان کے کھیل کی نگرانی کریں اور اگر کوئی بڑا بہن بھائی بھی ان کو انکی مرضی کے خلاف چھو رہا ہے۔ گُدگُدی کر رہا ہے۔ تو بچے کے احساسات کا احترام کرتے ہوئے بڑے بہن بھائی کو روکیں کہ وہ باز آجائیں۔ جب آپ بچے کو اس کے احساسات کا احترام سکھاتے ہیں تو در حقیقت آپ ان کو مضبوط انسان بنا رہے ہیں جو نا پسندیدہ انداز میں چھوئے جانے کو نہ کہہ سکے۔ اس فن کا تمام رشتہ داروں اور دوست احباب کو بھی بتائیں کہ اگر وہ پسند نہیں کر رہا تو زبردستی اس کو مت چھوئیں۔ یہاں تک کہ بچے کو اس بات پر بھی اصرار نہ کریں کہ قریبی رشتے داروں کو گلے لگائیں یا چومیں۔ بعض اوقات رشتے داروں کے لیئے یہ بات قابلِ اعتراض ہوتی ہے۔ مگر ان کو مناسب انداز میں سمجھائیں کہ بچے کے اچھے آداب و اطوار سے بھی زیادہ اہم ہے کہ وہ اپنی تحفظ سیکھے۔ ایسے میں اس کے جذبات کا احترام بہت ضروری ہے۔ تو یقیناً رشتے دار بھی ناراض نہیں ہونگے اس معاملے میں بہت سی اہم تربیت یہ ہے کہ بچوں کو تین طرح چھونے کے طریقوں میں فرق کرنا سیکھایا جائے۔

1) محفوظ انداز میں چھونا۔
2) غیر محفوظ انداز میں چھونا۔
3) بغیر رضامندی کے چھونا ۔

ان تینوں طریقوں کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ محفوظ انداز میں چھونے سے مراد ہے کہ ایسا چھونا جس سے بچہ خود کو محفوظ تصور کر سکے۔ ایسا چھونا ان کی ذہنی نشوونما کے لیئے بہت ضروری ہوتا ہے۔ ایسا چھونا بچے کو تسلی، اطمینان اور خوشی دیتا ہے۔ اس کا حوصلہ اور اعتماد بڑھتا ہے۔ ایسا چھونا جس سے آپ بچے کو احساس دلا سکیں کہ آپ اس کی پرواہ کرتے ہیں اور وہ آپ کے لیئے نہایت اہم ہے۔ ان میں گود میں لینا، گلے لگانا، کندھوں کے گرد بازو کا گھیرا بنانا، بوسہ دینا اور پیٹھ پر بٹھانا شامل ہے۔ جبکہ غیر محفوظ انداز میں چھونے کے طریقے اس کے برعکس ہیںیہ وہ انداز ہیں جس سے بچہ ذہنی اور جسمانی طور پر عدم تحفظ کا شکار ہوجائے جیسے تھپڑ مارنا، دھکا دینا، چٹکی نوچنا اور لات مارنا بچے کو تربیت دیں کہ اس قسم کا چھونا وہ کسی طور پر برداشت نہ کریں۔ اس کے علاوہ ان کی رضا مندی کے بغیر ان کو چھونا بھی قابلِ مذمت ہو سکتا ہے۔ کوئی ان پر تشدد نہ کر رہا ہو اور مناسب انداز میں ہی چھو رہا ہو۔ لیکن اگر بچے کی رضا مندی نہیں ہے تو زبردستی اس کو چھونا مناسب نہیں ایسے میں بچے کو ’’نہ‘‘کہنے کی عادت ڈالیں۔ اس کے ساتھ پریکٹس کریں کہ وہ مضبوط مگر نرم لہجے میں ’’نہ‘‘ کہہ سکے۔اس طرح اس کو ذاتی حد بندیوں کو ترتیب دینے میں بہت مدد ملتی ہے۔ اس کے علاوہ چھونے کا ایک اور نہایت غیر مناسب انداز بھی ہوتا ہے جس میں کوئی بچے کے نازک اعضاء کو چھوئے جوکہ صرف والدین ہی چھو سکتے ہیں یا کسی بیماری اور چوٹ کے علاج کے لیئے کوئی ڈاکٹر وہ بھی والدین کی موجودگی میں چھو سکتا ہے۔

یہاں کچھ تحفظاتی قوانین کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جو بچوں کو قبل از وقت سیکھائیں۔
1) کسی کے حساس، نازک اور جنسی اعضاء کو چھونا بالکل بھی مناسب نہیں۔
2) کسی دوسرے کے سامنے کسی بھی انسان کو اپنے ذاتی اعضاء کو چھونے کی کسی کو بالکل اجازت نہیں۔
3) کسی کے لیئے بھی یہ بات نا مناسب ہے کہ وہ آپ سے کہے کہ آپ اس کے ذاتی اعضاء کو چھوئیں۔
4) کوئی آپ سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ آپ کسی کے سامنے اپنے کپڑے اُتاریں۔
5) کوئی بھی آپکی تصویر بغیر کپڑوں کے نہیں لے سکتا۔
6) یہ بات بھی قابلِ برداشت نہیں کہ کوئی آپکو ایسے لوگوں کی تصویر یا ویڈیو دکھائے جو برہنہ ہوں۔
7) آپ خود مختار ہیں کہ آپ فیصلہ کریں کہ کون آپکو چھو سکتا ہے، کون آپکو چوم سکتا ہے، کون گلے لگا سکتا ہے۔ اور اسے ’’نہ‘‘ کہنے کے قابل بنائیں۔

اس کے علاوہ کچھ قوانین اس حوالے سے بتانا بھی ضروری ہیں کہ اگر بچہ کسی خطرناک صورتحال کا بھی شکار ہو جائے تو پھر اسے کیا کرنا چاہیے؟
1) ایسے فرد جو آپکو آپکی مرضی کے خلاف چوئے تو اس کومنع کریں۔
2) تیزی سے اس جگہ بھاگ جائیں۔ اور آئندہ اس شخص کے ساتھ اکیلے کسی جگہ نہ ٹھہریں۔
3) خود پر یقین مضبوط رکھیں۔ آپ نے کچھ نہیں کیا۔
4) اگر کوئی آپکو غلط انداز میں چھوئے تو فوراََ والدین کو یا اپنے سرپرست کو بتائیں۔ اگر وہ شخص دھمکی دے کہ کسی کو مت بتانا تو اس کی دھمکی کو اہمیت نہ دیں۔
5) ایسا کوئی راز نہ رکھیں جو آپکو غیر مطمئن بنا دے فوراََ حقیقتِ حال کسی معتبر شخص کو بتائیں اور اگر وہ آپکی بات پر اعتبار نہ کریں تو کسی اور سے تذکرہ کریں۔
6) ہر حال میں اس شخص سے دور رہیں جس نے آپکو غلط انداز میں چھوا ہو۔ کسی بھی ایسے شخص کی صحبت میں نہ رہیں جس کی موجودگی آپکو غیر مطمئن اور عدم تحفط کا شکار بنا رہی ہو۔

Courtesy: Urdu Point