رائٹر: عطرت زہرہِ

لوگوں کے ہجوم میں کوئی لڑکا لڑکی پر پیار بھری نظر ڈالتا ہے اور اسے ایسا لگتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے لئے بنے ہیں۔ وہ اس کا دل جیت لیتا ہے۔لیکن جیسے ہی وہ کوئی غلطی کرتا ہے یا پھر قسمت ان دونوں کو الگ کر دیتی ہے تو اس کو ایسا لگتا ہے کہ اس کی دنیا ختم ہو گئی۔ وہ ہر وقت اس لڑکی کے بارے میں سوچتا ہے۔ غم میں مبتلا رہتا ہے قریبی دوستوں سے گفتگو کرتا رہتا ہے۔ اس کو ہر وقت احساس ہوتا رہتا ہے کہ اب بھی وہ لڑکی اس کی ہے۔ لہذا وہ ہار مان لیتا ہے اور دنیا کے سامنے علی الاعلان اپنی محبت کا اظہار کرتا ہے شاید ایسے میں وہ کوئی گانا بھی گائے۔ بالاآخر سکون تو صرف ایک دوسرے کو حاصل کر کے ہی ملتا ہے تاکہ وہ یہ داستان اپنے بچوں کو سنا سکیں۔ کیا یہ کہانی سنی سنائی نہیں لگتی؟

کوئی بھی انسان جس نے انڈین رومنیٹک فلمیں دیکھیں یا کوئی رومانوی ناول پڑھا ہو وہ اس طرح کی کہانیوں سے ضرور شناسا ہو گا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس روایتی محبت کی لازوال داستان کو جب ہم حقیقی زندگی میں دیکھتے ہیں تو وہ کیسی نظر آتی ہے، حقیقت کا جائزہ لینے کے لئے ہم کچھ ماہرین کی آراء سے استفادہ کریں گے۔ جو لوگ بہت رومنیٹک ہوتے ہیں۔ وہ بھی اس قسم کی امید نہیں رکھتے کہ ایک دن وہ پیار کے احساس سے ڈس لیے جائیں گے اور کوئی خاص ان کی زندگی میں پہلی نظر میں ہی شامل ہو جائے گا۔ مثال کے طور ٹائٹینک فلم کے مرکزی کردار جیک کو نہیں معلوم تھا کہ عرشے پر موجود روز پر پڑی پہلی نظر کس طرح جیک کو روز کی محبت میں مبتلا کر دے گی۔

ماہر نفسیات فریان فشر، جن کا تعلق سینٹ میری یونیورسٹی سے ہے ان کے مطابق در حقیقت پہلی نظر جیسے کرشماتی لمحے کے بغیر بھی محبت وجود میں آ جاتی ہے، وہ مزید وضاحت کرتی ہیں کہ پہلی نظر کے جادو سے نہیں بلکہ کھل کر بات چیت کرنے سے ہی محبت پھلتی پھولتی ہے۔ اس کے برعکس اگر کوئی اجنبی آپ پر برے طریقے سے اثر انداز ہو اور آپ پہلے سے کسی دوسرے انسان کے ساتھ رشتے میں پرعزم ہوں تو ایسے میں آپ کو نہایت محتاط انداز برتنا چاہیے، بجائے اس کے کہ آپ کسی اہم فیصلے میں جلد بازی کرتے ہوئے نظر آئیں۔ جیسے کہ فلموں میں کوئی کردار پہلی نظر کے جادو کے اثر میں جلد آ جاتا ہے اور پہلے کے پرانے تعلقات کو اہمیت نہیں دیتا۔

یونیورسٹی آف ڈینور کی ماہر نفسیات گیلینہ روڈز کا کہنا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ محبت میں آپ کا چناؤ درست نہ ہو۔ لیکن جنس مخالف کی طرف کشش محسوس کرنا ایک قدرتی امر ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیشہ یہ تعلقات کسی غلط رنگ میں ہی ہوں۔ کمیونیکیشن کی تحقیق دان جولیا لپمین جن کا تعلق مشی گن یونیورسٹی سے ہے ان کے مطابق ایک فلم کا مرکزی کردار اپنی زندگی میں کسی کو اپنا مرکز نگاہ بناتا ہے اور اپنی محبت کو ثابت کر نے کے لئے کسی بھی حد پر جاتا ہے، اس کے دور جانے کے ڈر سے اس کے لئے اس کے پسندیدہ پھول لاتا ہے۔ اس کی پسند کے مطابق گھر سجاتا ہے۔ ہمیشہ اس کے تعاقب میں رہتا ہے۔ ایسی فلمیں جو اس قسم کے پیغامات دیتی ہیں، وہ دیکھنے والوں کو چکا چوند کر دیتی ہیں۔ دنیا میں اور بھی بہت سے لوگ ان کے اس نظریے سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ بہت ہی شاندار ہے کہ آپ اس قسم کے فلمی کردار کو آئیڈیل بنائیں اور اس کی جگہ اپنی زندگی میں کسی ایسے شخص کو دیں جو آپ کو حاصل کرنے کے لئے ہر حد سے گزر جائے۔ لیکن جولیا لپمین کا یہ بھی خیال ہے کہ اس تصواراتی کردار کی جگہ کسی ایسے شخص کو دینا جس میں آپ دلچسپی نہیں رکھتے یہ کوئی بہتر سوچ نہیں۔

Say anything and the wedding singerجیسی فلموں میں عموماََ تعلقات کو بچانے کے لئے آخری لمحات میں کسی رومینٹک بحران سے گزرنا پڑتا ہے اور یہ بحران کی ڈیمانڈ ہوتی ہے کہ بلند میوزک اور بہت تیز ڈرائیونگ کی جائے۔ لیکن آپ نے کبھی سوچا کہ آپ کا حقیقی رومانس اس طرح کی سنسی سے محروم ہوتا ہے۔عام طور پر لوگ ایسی سوچ اپنا لیتے ہیں کوئی بھی تعلق اس وقت تک بامعنی نہیں ہوتا جب تک کہ اس قسم کی کوئی ایمرجنسی نہ ہوئی ہو۔ جیسا کہ وہ فلموں میں دیکھتے ہیں۔

روڈز کے مطابق فلموں کے ذریعے اس قسم کے پیغام لوگوں کے لئے خطرناک بھی ہو سکتے ہیں۔ فلموں کی حد تک تو یہ بہت اچھا ہے، ایسا دکھائے بغیر وہ آیوڈین حاصل نہیں کر سکتے لیکن کسی کا دل جیتنے کے لئے ائیرپورٹ تک ڈرائیور کر کے جانا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہر نفسیات فشر کا کہنا ہے کہ اگر آپ کا ایک محبت بھرا تعلق ختم ہوا اور آپ پھر سے کوئی رشتہ استوار کرنا چاہ رہے ہوں تو آپ کو قطعی ضرورت نہیں کہ اپنے سابقہ دوست کو پھر سے کہیں، مجھے تم سے محبت ہے اور پھر سے اپنے رشتے کو بہتر بناتے ہیں۔

رومینٹک طرز کے تعلقات میں وابستگی بہت شدید ہوتی ہے اور ایسے تعلق کی ابتداء ہونے کے بعد اس کا کسی نہ کسی طرح شادی پر ہی انجام ہوتا ہے۔ عشقیہ وعدے کو ایک واحد عہد کی طرح دکھایا جاتا ہے۔ جبکہ روڈز کے مطابق حقیقی زندگی میں ایسا شاذوناذر ہی نظر آتا ہے۔

شادی کا فیصلہ بعض اوقات بہت سے فیصلوں کی زد میں آ کر ختم ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ کہا اگر آپ کسی کے ساتھ زندگی گزار کا فیصلہ کرتے ہیں تو بہت ساری چیزوں پر سمجھوتہ بھی کرنا پڑتا ہے اور آپ کشمکش کا شکار ہو جاتے ہیں کہ آپ کے لئے کیا چیز زیادہ اہمیت کی حامل ہے؟

کسی بھی محبت بھرے تعلق کے وعدے کی تجدید کے لئے ضروری نہیں کہ فلمی دنیا کے ٹوٹکے استعمال کیے جائیں۔ یہ بہت آسان اور سادہ انداز میں کیا جا سکتا ہے، جس کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے ہمسفر کے ساتھ اپنے جذبات کا اظہار کریں اور جب بھی اس کو ہماری ضرورت ہو ہم اس کے لئے موجود رہیں، اس کے بارے میں ضرور سوچیں اچھے تعلقات سے مشروط کیا چیزیں ہیں جو ہم روزمرہ کر سکتے ہیں آپ ہر روز کام پر جاتے ہیں، گھر واپس آتے ہیں، اکٹھے شام گزارتے ہیں، ٹی وی دیکھتے ہیں، گھر کے کام کاج میں حصہ لیتے ہیں، اکھٹے کھانے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یونیورسٹی آگ ٹیکساس امریکہ میں سین ہورن جو کہ کیمونیکیشن کی محقق ہیں، ان کے مطابق اگر میاں بیوی ہر رات مل کر برتن دھوئیں اور ایک دوسرے کی مدد کا سلسلہ بر قرار رکھیں تو یہ ان کے تعلقات کو بہت ہی خوبصورت بنیادوں پر استوار کرتا ہے۔ ایسے جوڑے عموماََ بہت کامیاب اور مطمئن زندگی گزارتے ہیں۔ سچی محبت کے دلکش اور سہانے تصورات غیر حقیقی ہو سکتے ہیں، لیکن کیا حقیقی تعلقات میں ان سہانے خیالات کے اثرات تسلی اور اطمینان کا باعث نہیں بنتے؟ اس ضمن میں ماہرین نفسیات سارہ ونئیر اور لوسیا اوسلیوان نے حل تلاش کیا، انھوں نے تحقیق کے ذریعے جانچا کہ 18 سے 28 کے عمر کے افراد کتنی مضبوطی سے محبت کے بارے میں اپنے عقائد کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ پائیدار محبت، پہلی نظر کی محبت یا کسی آئیڈیل کی تلاش میں کتنا یقین رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر مجھے میرا آئیڈیل پارٹز مل جائے تو میں فوراََ اس کی محبت میں گرفتار ہو جاؤں۔ اس قسم کے رجحانات کو چانچنے کے لئے تحقیق کی گئی۔ کچھ لوگوں نے ان کے نظریات سے اختلاف کیا اور مزید کچھ تحقیقاتی کام پیش کیا۔ جو ثابت کرتی تھیں کہ اس قسم کے عقائد گہری مایوسی کی وجہ نہیں ہوتے۔

عموماََ دیکھا گیا ہے کہ محبت پر یقین رکھنے والے اپنے تعلقات میں زیادہ مطمئن اور پرعزم پائے جاتے ہیں۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی ماہر نفسیات بیانکا ایسووڈا کی تحقیقات یہ ثابت کرتی ہیں کہ آپ جس قسم کا محبت بھرا تعلق چاہتے ہیں، اس کے بارے میں امیدیں دراز رکھنا بے کار یا لاحاصل نہیں ہے، درحقیقت یہ دراز امیدیں ہی مثبت تعلقات کو فروغ دیتی ہیں۔