یاد رکھئیے: روئیے بھی سونے، چاندی اور کانسی کی طرح ہوتے ہیں

2

کھابہ گیری کا ازالہ کرنے کیلئے نئے حکمت عملی پہلے سے طے شدہ ہو گی۔ اب وہ فاقہ کشی اور زیادہ ورزش کر کے اپنا کھویا ہوا ردھم حاصل کرنے کی کوشش بھی نہیں کریں گے، بس وہ اپنے ہیلتھ پلان کی طرف لوٹ آئیں گے اور اس پر احتیاط کے ساتھ عمل کریں گے۔ شیخ اکرم موثر روئیے سیکھنے کیلئے درجنوں چھوٹے چھوٹے تجربات کریں گے۔ وہ ورزش، کھانے پکانے کی ترکیبوں، شاپنگ کے انداز اور ریستورانوں میں کھانے کے رجحانات کا جائزہ لیں گے اور یہ عمل اس وقت تک جاری رہے گا، جب تک وہ یہ نہ جان لیں کہ ان کے لیے سب سے اچھا کیا ہے؟

ہمیشہ یہ امر یقینی بنائیں کہ آپ سنہری رویوں پر توجہ رکھے ہوئے ہیں۔ اگر آپ پہلے ہی جان چکے ہیں کہ آپ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نتائج آپ کو شوق دلا سکتے ہیں۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ صرف سنہری رویے ہی بڑے نتائج کو جنم دیتے ہیں۔ ایکشن اور نتیجے کا آپس میں رشتہ اچھی طرح سمجھ لیں۔ محتاط رہیں کہ اگر کوئی ماہر مشورے کے دوران نتیجہ ڈیمانڈ کر رہا ہے تو وہ مشورہ کارآمد نہیں، ہاں اگر وہ کوئی رویہ اپنانے یا قدم اٹھانے کی بات کر رہا ہے جو مطلوبہ نتائج پیدا کر سکتا ہے تو یہ کارآمد ہو گا۔

انقلابی راہنما جانتے ہیں کہ چند خاص رویے بڑی تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔ وہ احتیاط سے سنہری رویئے تلاش کرتے ہیں جو تبدیلی کے لیے آبشار جیسا کام کرتے ہیں۔ یاددہانی کے لئے آپ کو بتا دوں کہ مسئلہ بڑا اور مسلسل نوعیت کا ہو اور آپ درجنوں روئیے اپنا لیں جو معمولی اثر ڈالنے والے ہوں تو خاطر خواہ کامیابی نہیں ملے گی۔ جبکہ دو تین سنہری رویے کایا پلٹ دیں گے۔ توانائی کا بڑا حصہ سنہری رویوں پر خرچ کریں۔ ایک محدب عدسہ کس طرح سورج کی کرنوں کو نکتے پر مرکوز کر کے کاغذ کو آگ لگا دیتا ہے، قابل غور بات ہے۔ سنہری رویوں کی تلاش میں مشکل پیش آئے تو اس ماحول پر نظر ڈالیں، جہاں مسئلہ چھایا ہوا نظر آتا ہے، غور کرنے پر اسی ماحول میں مسئلے سے استثنیٰ بھی نظر آئے گا۔ یہ استثنیٰ دراصل وکھری ٹائپ کے لوگوں میں پایا جاتا ہے جو اپنی فہم و فراست اور چھٹی حِس کی مدد سے سنہری روئیے اپنا لیتے ہیں۔ ان جگہوں کا پتا چلائیں جہاں زیادہ تر لوگ اس مسئلے میں الجھے ہوئے نظر آتے ہیں تاہم غور کرنے پر کچھ وکھری ٹائپ کے لوگ بھی نظر آتے ہیں جو اس مسئلے سے مبرا ہیں۔ اس کے بعد ان منفرد رویوں کا پتا چلائیں جو فرق کا باعث بنتے ہیں اور کامیابی و ناکامی کے درمیان لکیر کھینچ دیتے ہیں۔ جو لوگ غلطیاں کرتے ہیں ان میں سے زیادہ تر ہمت ہار جاتے ہیں مگر کچھ مایوسی کا شکار ہونے کی بجائے جلد ہی واپس کامیابی کی راہ پر چلنے لگتے ہیں۔ مثلاََ شیخ اکرم نے سیکھا کہ اپنے ڈائٹ پلان پر چلنے میں ناکامی خود رہنمائی کرے گی کہ انہوں نے آخر کہاں غلطی کی؟ ایک دفعہ اس بنیادی غلطی کی نشاندہی ہو جائے تو اس کا ازالہ کرنے کیلئے حکمت عملی ترتیب دی جا سکتی ہے۔ شیخ صاحب وقتی ناکامی کو دل پر نہیں لیتے اور ہمت ہار کر نہیں بیٹھتے۔ ٹھوکر کھا کر گرنا اور پھر سنبھلنا بڑے دل گردے کا کام ہے لیکن اس کیلئے بھی ایک ایکشن پلان کی ضرورت ہوتی ہے اور اس ’’حادثے‘‘ کیلئے پورے منصوبے میں ابتداء سے ہی طے شدہ بندوبست ہونا چاہیئے۔

جب تک شیخ اکرم نے اس طرح کے رویوں کا پتا نہیں چلا لیا تب تک وہ ڈائٹ پلان پر دو قدم آگے چلتے اور تین قدم پیچھے لڑھکتے تھے۔ اب وہ کوئی بدپرہیزی کر بیٹھیں تو پیچھے لڑھکنے کا احتمال نہیں ہوتا۔ وہ تجزئیے اور اعداد شمار کی مدد سے دوبارہ مضبوط قدموں پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایک ناکامی کی وجہ سے وہ اپنے طے شدہ ڈائیٹ پلان کو ترک نہیں کرتے۔ یہ بات ذہن میں بٹھا لیں کہ ٹھوکر کھا کر سنبھلنے کا ایکشن پلان کامیاب لوگوں کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہوتا ہے۔
ایک اہم بات یہ ہے کہ اپنے منہ میاں مٹھو نہ بنیں بلکہ نتائج کی زبان میں بات کریں۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments