نشے کی “پست ترین سطح”: فرضی باتیں اور شرمندگی

2

جب سسٹم میں پھنس جاؤ تو شرمندگی کی بہتات ہوتی ہے :
جب متبادل طریقے تلاش کرتے ہوئے M.K ہماری پاس آئی تو اسے کئی بیماریوں کی تشخیص دی گئی جن میں شخصی، تشویشی، چرس اور شراب کی بیماریاں شامل تھیں۔ وہ کئی علاج گاہوں سے نشے کی بیماری کا علاج کرواتی رہی لیکن ہر دفعہ وہ دوبارہ نشے کا شکار ہو جاتی۔ اسے ان علاج گاہوں میں جانے سے نفرت تھی لیکن بہت سے پروفیشنلز کے مشوروں کی وجہ سے وہ ان پر یقین کرتی گئی۔ ہم نے اس کے مسئلے کو روایتی انداز سے نہیں دیکھا۔ اسی لیئے ہم نے M.K اور اس کی فیملی کے ڈھانچے اور اس کی تشکیل نو پر کام کیا جس نے تھوڑا وقت بھی لیا ۔ اس کے ساتھ ہی ہم نے اسے اس کے فوری دُکھ سے نکالنے کے لیے Mind Toleranceاور CBT ،جب کہ ہیجانی کیفیت کو کنٹرول کرنے کے لیے بائیو فیڈ بیک پر کام کیا۔ اس سارے عمل میں کچھ مہینے لگے لیکن وہ لڑکی جو ہمارے پاس مایوس اور پریشان آئی تھی اب اس میں تبدیلی آنے لگی تھی۔ وہ دوبارہ پڑھائی کی طرف جانے کی باتیں کرنے لگی تھی۔ اگر چہ ہر دفعہ سیشن میں بات چیت دکھ بھری اور آنسوؤں سے بھری ہوتی لیکن جب مسلسل اس کی سوچ اور شخصیت پر کام کیا گیا تو حالات بہتر ہوتے گئے اور کام مکمل ہونے پر وہ اس سے بالکل مختلف لڑکی تھی جو کہ پہلے دن ہمارے پاس آئی تھی۔

ایڈکشن کے موضوع پر ڈاکٹر صداقت علی کا ایک اور پروگرام دیکھیئے۔

mental-1
شرمندگی کو ختم کر دینے سے سچ اور خوبصورتی سامنے آتی ہے :
بلآخر M.K ایک حساس اور کام کاج میں مصروف لڑکی بن گئی۔ اب مزید وہ کسی ذہنی بیماری کو ساتھ لے کر نہیں چل رہی تھی لیکن اسے اپنی کمزوریوں کے بارے میں مکمل آگاہی تھی۔ وہ اپنے ماں باپ کے گھر سے دوسری جگہ رہنے لگی اور پھر اسے ایک نوکری مل گئی جس نے اسے روشن مستقبل کا آغاز فراہم کیا۔ اب کچھ عرصہ پہلے ہی اس نے سگریٹ پینا بھی چھوڑ دیے ہیں۔ اب اسے ڈھیروں ادویات نہیں کھانی پڑتیں۔اور ایک بہت اہم تبدیلی بھی اس میں یہ آئی ہے کہ وہ اب اپنی شخصیت اور مسائل کو شرمندگی کی وجہ سے چھپائے نہیں رکھتی، جس کی وجہ سے پہلے اُس کا جینا محال تھا۔ اب وہ پُر امید اور خوش ہے اور ہمارے لیے یہی اہم مقصد ہے۔

پروفیشنلز کے لیے سبق :
اُن تمام پروفیشنلز کے لیے جو لوگوں کی مدد کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ مریض کے لیئے فوری علاج تجویز کرنا، اسے روایتی انداز سے لیبل کر دینا سود آور تو لگتا ہے لیکن بد قسمتی سے ہم اکثر اوقات خود سے یہ سوال کرنا بھول جاتے ہیں کہ ان سب کا اصل کیا ہے اور ان کی درستگی کس حد تک صحیح ہے اور جب آپ کو پتہ ہو کہ Pygmalion effect کیا ہے؟ یعنی جب آپ اپنے مریض کو مایوس دیکھتے ہو اور اسے اور زیادہ مایوس کر دیتے ہو۔ اگر آپ ان میں امید جگانا چاہتے ہیں تو ان کے اندر جھانکیں، انہیں ایسا دیکھنا شروع کریں کہ وہ اب بہتر ہیں۔ اسی لیئے تو وہ ہمارے پاس آتے ہیں تاکہ ہم ان کی مدد کر سکیں، اُن میں اُمید جگا سکیں اور ان کی رہنمائی کر سکیں۔ یہ تو تھا M.K کی نشے سے بحالی کا سفر، لیکن اندازہ کریں کہ یہی کہانی کتنی اچھی ہوتی اگر اسے بہت پہلے مدد مل چکی ہوتی جس کی اس کو ضرورت تھی بجائے اس انتظار کے حالات ابتر ہوتے گئے۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments