ایڈیٹر: ندیم اقبال

۱۔ شراب اور نشوں کے بارے میں بات کریں
ؓؓؓبچوں سے اور دیگر نشوں کے بارے میں بات کرنی چاہیے۔ اس سے پہلے کہ ان کے دوست غلط طریقے سے ان سے بات کریں آپ خود ان سے بات کریں۔ ان چیزوں کے بارے میں بات کرنے کی جو بہترین عمر ہے وہ دس سال ہے۔ ایک ریسرچ کے مطابق جو والدین اپنے بچوں سے نشے کے بارے میں بات کرتے ہیں ان کے بچوں میں نشوں میں پہنسنے کے50% کم چانسیز ہوتے ہیں۔ جب ان سے بات کریں تو ان کو صاف صاف بتایں کے نشوں کے نقصانات کیا ہوتے ہیں جسمانی زہنی سماجی اور روحانی صحت میں کیا خرابیاں پیدا ھوتی ہیں اور ہمارے ملک کا قانون کیا سزا دیتا ہے۔

2 ۔ بچوں کی زندگی کا حصہ بنیں
ؓبچے جیسے ہی بڑے ہوتے ہیں تو ان کی زندگی کا حصہ بننا تھوڑا سا مشکل ہو جاتا ہے۔ مگر یہ بہت اہم ہے کہ آپ جسمانی اور زہنی طور پر ان کی زندگی کا حصہ بنیں جیسے کے آپ ایسے Events میں جائیں جہاں بچے ہوتے ہیں ان کے ساتھ  گیمز کھیلیں ان کو روزانہ کم از کم ایک دفعہ اپنے گلے سے لگایں، پیار کریں، اور ان  کی تعریف کرنا بھی ضروری ہے۔ ان کیساتھ تفریح کیلئے جانے کی پلاننگ کریں اور جائیں ۔یہ سب کچھ کرنے سے بچے کا اعتماد بڑھے گا، بچے کو آپ کے ساتھ بات کرنے کے مواقع ملیں گے جس سے وہ آپ سے اپنی ہر بات share کرے گا۔

3۔ بچوں کیلئے اچھا رول ماڈل بنیں
ؓبچے عموماً ماں باپ کی فوٹو کاپی ہوتے ہیں آپ بچوں کو جیسا دیکھنا چاہتے ہیں ویسے پہلے خود بنیں کیونکہ فوٹو کاپی ویسی ہو گی۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ بچے آپ کی عزت کریں تو پھر آپ اپنے والدین کی عزت کرنا شروع کردیں۔ آپ چاہتے ہیں کہ بچے منشیات کیطرف نہ جایں تو آپ تمام نشہ آور ادویات بندھ کردیں سگریٹ بھی۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ بچہ غصہ نہ کرے تو پھر خود بھی نہ کریں۔ ان کے ساتھ اپنی زندگی کی مثبت کہانیاں Share کریں۔ بچوں کیساتھ ایسی مثالوں کا تبادلہ خیال کریں کہ بیٹا میں جب پریشان ہوتا ہوں تو یہ مثبت چیز کرتا ہوں جب بور ہوتا ہوں تو یہ مثبت چیز کرتا ہوں جب میرے دوست مجھے نشہ آور چیز کی آفر کرتے ہیں تو میں ان کی آفر کو ٹھکرا دیتا ہوں۔

4۔ ا پنے گھر کے کچھ اصولِ، کانون وضوابط یا آئین بنالیں
گھر کے کچھ اصول بنالیں اور پھر انہیں نافذ بھی کر وائں یعنی سب نے کس ٹائم سے پہلے گھر پہنچ جانا ہے کس ٹائم گھروں کی لائٹس أف ہو جائیں گی۔ انٹرنیٹ ایسی جگہہو جہاں سے سب کاگزر ہویعنی کامن جگہ اورانٹرنیٹ بھی جب رات سونے کا وقت ہو تو بند ھ کردیں۔ اٹھنے کابھی فکس ٹائم ہوناچا ہیےْ اسے بناتے ہوے ٹیچرکو ضرور فالوکرناچا ہیےْ۔ اگر کوئی بچہ اصول تو ڈے تو اسے سزا بھی ملنی چاہیے کوئی کام پورا کرے تو انعام بھی ملنا چائیے۔ فیصلہ میرٹ پر کریں بچوں کو میرٹ پرہی انعام اور سزادیں بچوں کو مفت میں کوئی دینی چا ہیےْ۔

5 ۔ بچوں کو مونیٹر(Moniter) کریں
ماں باپ کا فرض ہے کے وہ اپنے بچوں کی حرکت کو مونیٹر کریں۔ وہ کمرے میں کیا کر تے ہیں باہر کن لو گوں میں بیٹھتے ہیں ان کے دوست کون ہیں ان کی نوٹ بکس کو Check کرنا چا ہیےْ۔ ان کے دوستوں کو کھا نے پر گھر بلانا چا ہیےْ اور پھر انھے جانچیں کہ وہ کیسے بچے ہیں ان میں کوئی بری عادت تو نہیں