خود اعتمادی کا انحصار انسان کی اپنی سوچ پر ہے۔ اگر اپ کی اپنے بارے میں منفی سوچ ہے تو اس کو مثبت کر کے آپ کے اندر خود اعتمادی پیدا کی جا سکتی ہے۔ خود اعتمادی کی کمی انسانی زندگی کو بُری طرح متاثر کرتی ہے۔ علمِ نفسیات کی زبان میں ادراکی رویے کی تھراپی Behavior Therapy) (Cognitive کے ذریعے ہی نفسیاتی الجھنوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ اس تھراپی کے مطابق جب کوئی بھی انسان احساسِ کم تری یا خود اعتمادی کی کمی کا شکار ہو توان چار بنیادی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے:
۱) مسائل پیدا کرنے والے حالات کی پہچان:
کچھ وجوہات جن کی بنیاد پر ہم اپنے آپ کر کم تر محسوس کرتے ہیں وہ یہ ہو سکتی ہیں۔
(i) اپنے سے بہتر اعتماد والے بندے کے میں ساتھ کام کرنا۔
(ii) رشتے ناتوں کو نبھانے میں گھر، آفس اور اردگرد میں مشکل پیش آنا۔
(iii) اپنے بڑھتے گھٹتے وزن کی وجہ سے احساسِ کمتری کا شکار ہونا۔
(iv) زندگی میں کسی بڑے نقصان کے ساتھ آگے بڑھنے کے وقت گھبرانا وغیرہ.
۲) اپنی خودبینی کرنا، اپنی سوچ کو کسی اور کی نگاہ سے پڑھنا۔
اس طریقہ علاج کو نفسیات میں Balcony Viewیعنی بالاخانے کے برآمدے سے دیکھنا۔ کہتے ہیں جب ایک بار نشاندہی ہو جائے کہ کن وجوہات، جگہوں، لوگوں اور حالات کی وجہ سے آپ کے اعتماد میں کمی آتی ہے اسکے بعد اپنی سوچوں پر ایک نگاہ پورے ہوش میں ڈالیں ایسے کہ آپ کو اپنے آپ سے مقالمے کا پتہ چلے کہ یہ مثبت ہے یا منفی۔ یہاں بنیادی طور پر تین طرح پر ختم ہوتی ہے جو کہ یہ ہیں جن کی بنیاد پر آپ اپنے آپ سے بات کرتے ہیں:
(i) یقین/ عقائد
(ii) کہانیاں
(iii) عقلی دلائل
آپ کی خود سے بات چیت یا تو مثبت ہو سکتی ہے یا منفی یا غیر جانبدار۔ یہ حقائق پہ مبنی بھی ہو سکتی ہے اور غیر معقول بھی۔

۳)حالات کا اختیار لیں (Take the bull by the horns)
جب آپ جائزہ لے چکے کہ کونسے حالات آپکی اپنے آپ سے بات چیت، خود کلامی کو منفی طور پر متاثر کرتے ہیں۔ تو اس کے بعد آپ نے منفی بات چیت کا مقابلہ کرنا ہے۔ اس میں آپ کے مدتوں سے بنے ہوئے یقین ہوتے ہیں جو کہ غلط ہونے کے باوجود پرانے ہونے کی وجہ سے آپ کے دل و دماغ میں حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں۔
منفی سوچنے کے انداز جو کہ خود بخود انسانی دماغ کے اندر بے اختیاری سے آتے ہیں اگر ان کا جائزہ لیا جائے تو یہ عمومی طور پر چار اندازِِ سوچ ہیں جو کہ دماغی خلل یعنی کی نشاندہی ہیں جو کہ یہ ہیں
i: سب ہونا یا کچھ نہ ہونا سوچنے کا انداز
اس سوچنے کے انداز میں آپ ہر واقعہ کو سیاہ یا سفید رنگ دیتے ہیں یعنی گمان کی حدِ انتہا تک مثبت یا منفی۔ یہ سوچ مایوسی کی بڑی وجوہات میں سے ہیں کیونکہ اس میں حدِ انتہا سوچ شامل ہیں۔
مثال: اگر میں ایک کام کو صحیح وقت میں نہیں کر سکی تو میں کسی کام کو صحیح وقت پر نہیں کر سکوں گی۔
ii: منفی ذہنی فلٹر
اس سوچ کے زیرِاثر آپ ہر واقعہ سے غلط معنی اخذ کرتے ہیں۔
مثال: اگر میں ہکلا کر بولتا ہوں تو اب سب کو پتا چل جائے گا کہ میں کم اعتماد محسوس کر رہا ہوں
iii: منفی دھنگ کے ساتھ بات کی تہہ تک پہنچنا
یہ طرزِ سوچ ہماری منفی سوچ کی اختراہ ہے جہاں ہم خلاصہ حال پر گفتگو بروقت ختم ہونے سے پہلے ہی پہنچ جاتے ہیں اور وہ بھی منفی انداز میں
مثال: میری بہن نے مجھے میری کال کا جواب نہیں دیا اُس کا مطلب ہے کہ وہ مجھے نظر انداز کر رہی ہے۔
iv:اپنے آپ سے منفی اندرونی بات چیت (Negative Self Talk)
آپ اپنے آپ کو کم سمجھتے ہیں کسی غلطی کی بناء پر جو کہ آپ نے ماضی میں کسی یا کسی ایسی وجہ یا واقعے کی بناء پر جس کی وجہ سے آپ کا خود پر سے اعتماد متزلزل ہوا ہو۔
مثال: میں علاج میں اسلیئے ہوں کیونکہ میں ذہنی مریض ہوں۔

۴) منفی کم اعتمادی کی کیفیت کو پر اعتمادی سے بدلیں۔
iv: یہا ں نو نقات درج ذیل ہیں جو کہ ایک بین اقوامی جز یرے ہفینگٹن پوسٹ میں شائع ہوئے تھے جن کے ذریعے خود اعتمادی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے، جو کہ یہ ہیں۔
i: منفی کو ایک ڈبے میں بند کر دیں
اس ڈبے کا محلے وقوع چھوٹا کرتے جائیں، اتنا چھوٹا کریں کہ اس سے کوئی مسئلہ بڑانہ لگے۔ یہ ایک تصوراتی تکنیک ہے جس سے مسائل کا حل ملتا ہے کیونکہ یہ انسانی ذہن کو یہ Signal دیتا ہے کہ مسلۂ ذیادہ بڑا نہیں۔
ii: ممکن کرنے کا فن سوچ
کبھی کبھی انسان جب مسائل کا شکار ہوتا ہے اس وقت مثبت سوچ بیوقوفی بھی لگتی ہے ۔ ایسے اوقات میں اچھی سوچ جو کہ کسی مسلئے کا ممکنہ حل ہوسکتی ہے ،وہ ایسی مثبت سوچ سے بہتر سے بہتر جس کو ذہن ماننے کو تیار نہ ہو۔
iii: احساسِ جرم
ہر چھوٹی چھوٹی غلطی پہ اپنے آپ پر ضمیر کے یا منفی سوچ کے کوڑے برسانا بند کریں۔ اگر آپ سے آپ کے جیکٹ پر کافی گر گئی ہے تو زیادہ تر لوگ اپنے Cell phone میں ہی لگے ہوں گے بجائے کہ وہ یہ دھیان کریں کہ آپ نے اس کو خود پر کیسے گرایا ہے
iv: اپنے فا ئدے کے لیئے اپنی سوچ کا دہارہ بدلنا
چھوٹے سے الفاط کے ہیر پھیر سے انسانی سوچ پر ان الفاظ کا بہت مثبت نتیجہ پایا گیا ہے۔ یہ الفاظ ہی ہیں جو بندے اور سوچ کو الگ کرتے ہیں۔ جیسے یہ غلطی مجھ سے ہوئی یا میں غلط ہوں۔ اس میں ہمیشہ غلطی کو خود اپنی ذات میں سے الگ رکھنے کا نام خود اعتمادی ہے۔
v: آپ کے بہترین دوست کی رائے میں آپ کیا ہے؟
ہمیشہ اپنے آپ کی طرف دیکھنے کا زاویہ وہ رکھیں جیسا کہ آپ کا بہترین دوست آپ کو دیکھتا ہے۔ اس سے آپ آپنے آپ کو کم تنقیدی اور زیادہ خصوصیات والی نظر سے دیکھیں گے۔
vi: اندرونی نقاد کا نام رکھ لیں
اپنے اندرونی نقاد کا کوئی مضحکہ خیز نام رکھ لیں تاکہ آپ اسکی منفی رائے کو زیادہ اہمیت نہ دیں۔
vii: اندرونی بک بک جھک جھک کو بھی کوئی نام دے دیں
عادتاََ منفی سوچ کو بھی کوئی نام دے دیں جو کہ بار بار ذہن میں آ جاتی ہیں اور خود اعتمادی میں کمی کا باعث ہوتی ہے۔
viii: فون اُٹھاؤ
اگر کہیں کچھ غلط ہو جائے تو رابطہ فوراََ استوار کر کے اپنا مذاق خود اُڑا لیں اس طرح اگر آپ سے کچھ غلط ہو بھی ہو گیا ہے تو اسکا اثر زائل ہو جاتا ہے۔
ix: اپنے آپ کو غلطیوں سمیت قبول کریں
اپنے آپ کو بہت ہی اونچے معیار سے مقابل نہ لائیں۔ اپنا انسان ہونا اور غلطی کرنے کا استحصاق ضرور اپنی یاداشت میں رکھیں تاکہ آپ پیچھے رہ جانے کو بھی زندگی کی دوڑ بھاگ کا حصہ سمجھ کر قبول کر لیں جیسا کہ آگے بڑھنے کو قبول کرتے ہیں۔