آئیے: بات کیجئے: مریض کی نشے کی بیماری سے کیسے نپٹیں؟

2

فکر مندی کافی نہیں، بات کرنا بھی ضروری ہے۔
اکثر نشے کے عادی افراد کے روئیے اس کے ارد گرد کے لوگوں کو کافی محتاط کر دیتے ہیں لوگ یا تو اس کے غصے کے غضب سے ڈر رہے ہوتے ہیں یا اس کے دوبارہ نشہ کرنے سے۔ تاہم جب تک مسئلے کے بارے میں کھل کر نشے کے عادی فرد سے بات نہ کی جائے اور دوستوں اور خاندان کے راز رکھے جائیں اس طرح سے معملات کبھی حل نہیں ہوئے۔ ایک کاوٗنسلر کی حیثیت سے میں اس بات کو جانتی ہوں کہ جب تک کوئی اس بات کو تسلیم نہ کر لے کہ اسے کوئی مسئلہ ہے اس کی مدد کرنے کا کوئی راستہ نہیں ہوتا کوئی رویہ اس وقت تک مسئلہ نہیں ہوتا جب تک کے اسے ایک مسئلے کے طور پر تسلیم کر لیا جائے ایک مریض یا اس کی فیملی کی طرف سے جب منشیات کے بے جا استعمال کے بارے میں کھل کر بات کی جاتی ہے تو اب اسے واقعی ایک مسئلہ سمجھا جاتا ہے جس پر اب توجہ دی جاتی ہے۔ تو اس معاملے پر بات کرنے سے اور اسے ایک مسئلہ سمجھنے سے جو کے نشے کا مسئلہ ہے ہم اس مسئلہ سے متعلق رویوں پر کام کر سکتے ہیں۔

مزید جاننے کے لئے یہ آرٹیکل پڑھیے: نشے کے عادی افراد کے ساتھ کیسے رہا جائے؟

talk-the-talk2اپنے آپ کو بچا ئیے۔ نشے کے عادی کے علاوہ کسی اور کے پاس یہ طاقت نہیں کہ اسے محفوظ رکھ سکے سوائے اس کے خود کے پاس۔ نشے کی بیماری پر بات کرنا اور نشے کے عادی شحص کی زندگی میں مداخلت آسان نہیں ہے اور یہ کاروائی فوراً کام بھی نہیں کرتی۔ یہ لت ایک طاقتور درندے کی مانند ہے جسے صرف مارا جاتا ہے جب ایک نشے کا عادی اس سے لڑنے کا فیصلہ کر لے۔ بد قسمتی سے ہر نشے کا عادی اس بات کا فیصلہ آپ کی مقرر کردہ ٹائم لائن پر نہیں کرے گا۔ تاہم جب آپ اس بات کو سمجھ جائیں کہ نشے کا عادی اور اس کا نشہ آپ کے لیے اب ٹھیک نہیں تو کوئی بھی چیز آپ کو اپنے لیے مدد حاصل کرنے سے نہیں روک سکتی۔

خاموشی توڑنا اور نشے کی عادی شخص کی طرف سے پہنچائے گئے نقصان کو تسلیم کرنا کبھی آسان نہیں ہوتا۔ بہت سے لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ کافی مدد کرنے میں نا کام رہ گئے۔ وہ اچھے اور مدد گار بننے میں ناکام رہ گئے نشہ آور چیز ایک نشے کے عادی فرد کی توجہ کے ظالمانہ اور غیور حریف ہیں۔

نشے کے عادی فرد سے کیسا رویہ اختیار کیا جائے؟ اس حوالے سے ڈاکٹر صداقت علی کی یہ ویڈیو دیکھیئے۔

نشے کے عادی کے نشہ کرنے کی غلط ذمہ داری خود پر نہ لینا بہت ضروری ہے یہ ایسا ہی ہے کہ ہم تصور کر لیں کے کہ ظلم سہنے والا خود کہ رہا ہو کہ مجھ پر ظلم کروں۔ کوئی ایک شخص جس کو آپ بدل سکتے ہیں وہ صرف آپ کا اپنا آپ ہے بعض لوگو ں کے لیے یہ ایک دکھ کی بات ہے لیکن یہ خود سے وہ کانٹا دور کرنے کے لیے بہت ضروری ہے جس میں ہم دوسروں کے غلط انتخاب یا دوسروں کی لت پر چلنے کی ذمہ داری خود پر ڈال لیتے ہیں۔

روگی کون لوگ ہوتے ہیں؟ ڈاکٹر صداقت علی کی یہ ویڈیو دیکھیئے۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments