عقلی طور پر تمباکو نوشی کو کس طرح چھوڑا جائے؟

2

غیر یقینی ہمیں نفسیاتی راہ دکھاتی ہے جس کو بنیاد بنا کر ہم اپنی تسکین کرتے ہیں اور دوبارہ ہوش آنے پر خود کا استحصال کرنے کا عزم بھی کرتے ہیں۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ بغیر سمجھے لوگ اپنی توجہ سگریٹ نوشی پر کیسے مرکوز کرتے ہیں۔ یہ فوائد کو نظر انداز کرتی ہے اور اس کے رد عمل میں پیدا ہونے والی قیمت کو پس پردہ ڈال دیتی ہے۔ لوگ بھی اسی طریقہ کار پر عمل پیرا ہوتے ہیں اور جب سگریٹ نوشی کے ردعمل میں پیدا ہونے والی ناخوشگوار خواہشات کو تقویت سی جاتی ہے ہمیں اسی دوران اس عادت میں مداخلت کرنے اور اسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

سگریٹ کی ڈبی پر بنے تصویری خاکے سگریٹ نوش افراد پر اثر انداز ہوتے ہیں لیکن اکثر اوقات ان خاکوں کو دیکھ کر ان میں ناخوشگوار احساسات پیدا ہوتے ہیں جس کے ردعمل میں ان میں جسمانی تبدیلیاں بھی رونما ہوتی ہیں۔ لیکن ہر اس خاکے سے ان پر کوئی خاص اثر نہیں ہوتا کیوں کہ یہ تصویری خاکے ان کو اپنی آئندہ زندگی کے بارے میں ترغیب تو دیتے ہیں لیکن اس کا ان پر کوئی خاص اثر نہیں ہوتا۔ سب سے آسان اور موثر حل یہ ہے کہ بلاواسطہ مداخلت کی جائے اور فوراً سگریٹ نوشی کے نقصانات کے بارے میں بھی آگاہ کیا جائے۔

سگریٹ نوشی کیسے چھوڑیں؟ ڈاکٹر صداقت علی کا خصوصی پروگرام دیکھیئے۔

عملی طور پر دیکھا جائے تو یہ حکمت عملی ایک جیسی ہی ہے۔ انفرادی طور پر اگر ہم کسی پر کوئی مصنوعی نتائج مسلط کریں اور اپنے اردگرد کے لوگوں سے کہا جائے کہ اسے نافذ کریں۔ مثال کے طور پر اگر آپ یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ آپ کی بیوی آپ کو رات کے وقت سگریٹ نوشی کی اجازت دے دیتی ہے اور آپ یہ کام ہر رات اور کسی بھی وقت کرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ تب ہم اس علت کے نشے میں ہوتے ہیں اور اس اسے پیدا ہونے والی کیفیت سے محظوظ ہو رہے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے لمبے عرصے تک کی صحت یابی کے بارے میں بے خبر ہو جاتے ہیں لیکن اس بات کا بھی یقین ہے کہ یہ کام کرنے کے بعد تقریباً دس منٹ میں سوچ آتی ہے جو غیر صحت مندانہ انتخاب پر دوبارہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ حکمت عملی ہمارے اضطراری افعال کے نتیجے میں بھی کام کرتی ہے جہاں ہم سوچے سمجھے بغیر ہی کوئی بھی کام سرزد کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر میٹھے کھانے کھانا اور ایسی چیزیں خریدنا جو بجٹ میں نہ آتی ہوں۔
quit-smoking-2حکومتی سطح پر ملک پہلے ہی سگریٹ نوشی سے ملنے والے معاوضے کو ٹیکسوں میں استعمال کرتا ہے اور فلاڈیلفیا حال ہی میں شکری مشروبات پر ٹیکس لاگو کرنے والا پہلا امریکی ملک بن گیا ہے۔ پبلک پالیسی کے ماہر مارک کلیمین بتاتے ہیں کہ بعض تیز اور مستند نتائج مجرمانہ سزا کے تناظر میں لاگو کرنے کے لیے مشکل ہیں لیکن تمباکو نوشی کے معاملے میں یہ بالکل سیدھا حل ہے اور ایک ٹرانزیکشن فیصلے میں بنایا گیا ہے۔ کسی بھی وقت کوئی فرد اسے روشن کرے اور پھر فوراً سے پریمیم ادا کرے۔ یہ بات ان کی عادت سے منسلک اندرونی اخراجات سے علیحدہ ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ٹیکس میں اضافہ لوگوں کو تمباکو نوشی چھوڑنے کے لیے کیا گیا ہے۔ خاص طور پر وہ لوگ جو کمزور ہیں۔ اس میں نوجوان، غریب اور اقلیتیں بھی شامل ہیں۔ لیکن تمباکو نوشی آبادی کے کچھ حصے میں ابھی بھی برقرار ہے کیونکہ ابھی بھی تمباکو نوشی کے خطرات کے بارے میں آگاہی پھیلانے میں بہت وقت چاہیئے۔ ٹیکس بڑھانا بہت آسان کام ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب تمباکو نوشی غصے میں ردعمل دیتے ہیں۔ بلاشبہ ٹیکس ادا نہ کرنا تمباکو نوشی نہ کرنے والے افراد کے لیے فائدہ ہے بلکہ یہ چیز اُن کو اپنی طرف کشش ہی نہیں کرتی۔

ایک نقطہ یہ ہے کہ سگریٹ جو تمباکو سے اخذ کیا گیا ہے فوری طور پر یہ بہت خوشی کے اثرات مرتب کرتا ہے لیکن یہ خوشی یا احساس ہر فرد کے لیے ایک جیسا نہیں ہوتا۔ ہر ترغیب کی ایک خامی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر امیر لوگوں میں تمباکو نوشی کا ٹیکس کے بڑھنے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا لیکن پالیسیاں بناتے وقت یہ بات ضرور تہہ تک سوچتے ہیں اور وہ تمباکو نوشی کرنے اور نہ کرنے والوں کی نفسیات کو بھی جانتے ہیں۔ سادہ پیکنگ صحیح سمت میں قدم ہے جس سے افراد کو سگریٹ نوشی سے روکا جا سکتا ہے۔ اس طریقے سے روکنا بہتر ہے بجائے اس کے کہ لوگوں کو تمباکو چھوڑنے کے لیے ہمت دینا۔ زیادہ بھاری ٹیکس بھی تمباکو نوشی کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے بلکہ یہ روک بھی سکتا ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments