ہمارے ادارے ولنگ ویز نے لاتعداد مرد اور خواتین کے سا تھ کام کیا ہے جو (بسیار خوری) زیادہ کھانے کی علت، دائمی پرہیز اور موٹاپے سے پریشان ہو رہے تھے۔ سب سے مزیدار بات تو یہ ہے کہ آنے والا نیا کلائنٹ ایک اپنی منفرد کہانی کے ساتھ آتا ہے۔ ہزاروں داستانیں سننے کو بعد کچھ یونیورسل مرکزی خیالات سامنے آتے ہیں۔

upper

مس عترت زہرأ نقوی ویلنگ ویز اور صداقت کلینک لاہور میں ماہر نفسیات کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے ایم ایس سی نفیسات کی ڈگری پنجاب یونیورسٹی سے درجہ اول میں حاصل کی اور کلینیکل سائیکولوجی میں ایڈوانس ڈپلومہ حاصل کیا۔ انہوں نے ڈاکٹر ارم بخاری کے زیر سایہ گنگارام ہسپتال سے اپنی پیشہ وارآنہ تربیت مکمل کی۔ انہوں نے چنیوٹ کے ڈی۔ایچ۔کیو ہسپتال میں بطور ماہر نفسیات ایکسائز کے پراجیکٹ پر کام کیا (مزید پڑھیے)

lower

ہمارے کلائنٹس ہمیں وزن کم کرنے سے متعلق بہت سے ثقافتی جنون سے بھی آگاہ کرتے ہیں اور یہی آگاہی ان لوگوں کی مستحکم دور میں معاون ثابت ہو گی جو ڈائٹنگ، زیادہ کھانا، شرم، خود سے نفرت کے مدار میں گھوم رہے ہیں اور ایک چیز یاد رکھنا بہت اہم ہے کہ مسائل کا کوئی حل ہمیشہ موجود ہوتا ہے۔ ہمیں امید تھی کہ بہت ایسے لوگوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملے گا جو وزن کی زیادتی اور موٹاپے کے لیے مشہور ہیں۔ تاہم ایسا نہیں ہوا۔ جسم سے نفرت جسم کے سائز سے منسلک نہیں ہوتی۔
weight
ہمیں اس بات پر یقین کرنا سکھایا جاتا ہے کہ ہمارا جسم اسی طرح نظر آئے جس طرح اُسے نظر آنا چاہیئے۔ جبکہ یہ سچ نہیں۔ آپ اپنی کچھ عرصہ پرانی تصویر دیکھیں جس میں آپ دبلے پتلے تھے اور آپ دوبارہ ویسے ہی نظر آنا چاہتے ہیں جبکہ اصل معاملہ یہ نہیں ہمارے جسم کی تصویر کا ہمارے وزن سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم ایسے بے شمار مریض دیکھ چکے ہیں جو نفسیاتی علاج کے بعد ہمارے پاس آتے ہیں جس علاج کے ذریعے انہوں نے بہت سی مثبت تبدیلیاں حاصل کی ہوں۔حتٰی کہ اینگزائٹی اور ڈپریشن کی عالامات میں بہتری آنے کے باوجود ان کے جسمانی تصور کے مسائل برقرار رہتے ہیں۔ (بسیارخوری) بہت زیادہ کھانے کی عادت عموماً جذباتی مسائل کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اور ان جذباتی مسائل کا حل ہونا زیادہ کھانے کی عادت کو ختم کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتا۔ جس میں ہمارے جسم اور خوراک کا تعلق خراب ہوا تھا۔

اپنے ہی جسم کے خلاف جنگ کرنا ہمیشہ ہی ایک ہاری ہوئی جنگ کے مترادف ہے۔ جس میں ہم ان جسمانی محرکات کے خلاف لڑ رہے جو کسی انقلاب سے وجود میں آتے ہیں۔

اگر ہم ان محرکات کو کنٹرول کریں تاکہ وہ ہماری خوراک کو گائیڈ کریں تو یہ ہمیں مشکل صورتحال سے بچانے میں ایک مضبوط ہتھیار کا کام کر سکتے ہیں۔ اس مرحلے میں ہمدردی قبولیت اور حاضر دماغی سے کھانا شامل ہے اور جب آپ یہ چیزیں حاصل کر لیتے ہیں تو مشکلات آپ کو آزاد کر دیتی ہیں۔