مُصنف: صباء
ایڈیٹر: سحرش سرفراز

آپ کا بچہ نہیں سو رہا اس لئے آپ بھی نہیں سو رہے ۔ جب آپ کے والدین کسی بیماری میں مبتلا ہو جائیں تو آپ کے رشتے ،نوکری سب کچھ بلندیوں پر پہنچ جاتے ہیں ۔ غیر متوقع ایمرجنسی کا مطلب ہے بلز میں بڑھتا ہوا اضافہ جس کو ادا کرنا مشکل ہو ۔

اکثراوقات زندگی صرف کاٹتی ہے جب ایسا ہوتا ہے تو ہم بہت زیادہ محنت کرتے ہیں تاکہ ہمارے اردگرد جو تباہی مچی ہوئی ہے اس کو روکا جا سکتا ہے ۔ ہم دیتے ہیں اور دیتے چلے جاتے ہیں جب تک کہ ہم دینے کی بلندیوں کو نہیں چھو لیتے کیونکہ ہم سوچتے ہیں کہ ساری حرکات کچھ مختلف کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی جو تباہیوں سے بچا سکتے ہیں۔ جب ہم حرکت کرنا چھوڑ دیتے ہیں تو زیادہ موقع ہوتا ہے کہ تباہی جس کے بارے میں ہم سوچ رہے ہوتے ہیں وہ ہو جائے ۔ہم باقی ساری چیزیں چھوڑ کر صرف انہی چیزوں کو توجہ دیتے ہیں جو ہمیں تباہی سے بچا سکیں تو حیرت ہو گی یہ جان کہ جو چیزیں ہم چھوڑ دیتے ہیں وہ اپنی دیکھ بھال کے لئے ضروری ہوتی ہیں۔ فوری وقت میں جو چیزیں ہم خود کو بہتر محسوس کرنے کے لئے کرتے ہیں وہ صرفوقتی ہوتی ہے۔

لیکن پھر دن، ہفتے اور مہینے بعد ہم یہ احساس کر تے ہیں خود بحالی کی طرف نہیں جاتے ۔ حتی کہ ہم ان حالات سے نکل چکے ہوتے ہیں لیکن ہم جذباتی،جسمانی،ذہنی اور روحانی طور پر اچھا نہیں محسوس کر رہے ہوتے۔ مشکل بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ دوسری چیزوں پر بھی سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔ ہم لگاتار سوچ رہے ہوتے ہیں :مجھے خود کی دیکھ بھال کرناچاہیے۔ جب ہم سوچ رہے ہوں کہ اس دنیا میں ایسا کرنا کیسے ممکن ہو سکتاہے؟ لیکن ایک چیز میں کرنے کی کوشش کر سکتا ہوں کہ خود بحالی کا عمل جاری رکھوں ۔ میں بہت کوشش کر سکتا ہوں کہ ہر خود بحالی کا عمل کو جاری رکھوں۔ میں بہت کوشش کر رہا ہوں کہ خود بحالی زندگی میں لے کر آؤں جب میں زیادہ پریشان کن حالت میں ہوں۔ مندرجہ زیل چیزیں میری مدد کر سکتی ہیں :

۱۔ جا ننیے کہ آپ کیا چاہتے ہیں :
کوئی بھی بحالی آنے سے پہلے اگر ہم اپنا خیال نہیں رکھ پاتے تو بہت مشکل ہے کہ بحالی آنے کے بعد ہم اپنا خیال رکھ سکیں ۔ اگر آپ کی زندگی ٹھیک چل رہی ہے تو خود کو پہلے سے تیار کر لیں کہ اگر کوئی مشکل درپش ہوتی ہے تو خود بحالی کیسے کرنی ہے اور یہی ضرورت ہے کہ آپ جان سلو۔ کیا آپ کے پاس فلاح و بہبود کے نسحے ہیں۔فلاح و بہبود کے نسخے آُپ کی مدد کر تے ہیں کہ آپ اچھے سے زندگی گزار سکیں اگر نہیں ہے تو آپ کوئی ایک لکھیں اور اس کو اپنی زندگی میں اپنائیں تاکہ بحران سے جا سکے۔

۲۔اپنی توجہ کا مرکز اپنی فلاح و بہبود کی طرف لے کر جانا:
عموما ہم سوچتے ہیں کہ خود کا خیال کرنابونس کی طرح ہے ۔لیکن جب ہم تھکے ہوتے ہیں تو ایسے خیالات نہیں آتے ۔اپنا خیال رکھنے کا وقت بہت ہی محدود ہے لیکن زندگی میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔ جب آپ لسٹ بنا لیتے ہیں کچھ چیزوں کی جو آپ روزانہ کر سکیں تو اس لسٹ میں دو سے تین چیزیں فلاخ وبہبود کے نسخے میں سے شامل کر دیا کریں۔ حتی کہ آپ کے پاس خود بحالی کے لئے کم مدت ہو۔ لیکن کم وقت کچھ نہ ہونے سے تو بہتر ہے۔ اسی لئے پر عزم رہیں تاکہ آپ خود کا خیال کر سکیں اور لسٹ پر لکھی ہوئی چیزوں عمل کریں ۔

۳۔یہ مشکل سوال خود سے کریں ۔مجھے کسی بھی چیز سے بڑھ ابھی کیا چاہیے؟
یہ میرا خود بحالی کا سب سے اہم سوال ہے۔یہ میں نے اور دوسروں سے بہت بار سوال کیا ۔یہ اس قسم کا سوال ہے کہ مشکل نطر آتا ہے لیکن نا قابل یقین جوابات حاصل ہوتے ہیں کیونکہ ہم خود کو بہتر جانتے ہیں اوراپنی ضرویات کو بہتر پہچان سکتے ہیں۔ ابھی جو چیز ہمیں چاہیے وہ خود بحالی کے نسخے ہیں۔جو بھی جوابات حاصل ہوں لیکن یہ سوال کرتے رہناچاہیے تا کہ بہترجواب حاصل ہو سکے۔ حقیقتًا آپ یہ سوال صرف ایک بار نہیں کرتے بار بار خود سے کرتے رہا کریں ۔آپ جب بحران میں ہوں تو بار بار خود سے یہ سوال کریںیہ آپ کو وضاحت اور طاقت فراہم کرے گا۔

کم سوچنا:
ہمارے پاس طویل مُدت نہیں ہوتی اور ہمارے پاس تو درحقیقت جب زندگی مشکل ہوتی ہے تو بہت کم وقت ہوتا ہے ۔یہ کہا جاتا ہے کہ ک ہمارے پاس قلیل وقت موجود ہوتا ہے مگر ہم اس کو بہترین طریقے استعمال نہیں کر پاتے ۔اس وقت کو اپنا خیال رکھنے کے لئے وقف کریں۔ کام کے وقفے کے پانچ منٹ میں سے ہم ایک منٹ کثرت کے لئے وقف کر سکتے ہیں ۔ اپنے درد کا مساج :برف یا کسی گرم چیز سے راحت پہنچائیں ۔اپنے وقت میں سے چند لمحات Meditation ،نماز ، دعائیں یا جسے آپ چاہتے ہوں فون کر سکتے ہیں۔ ہم احساس تکمیل کو حاصل کرنے کے لئے کیسے چھوٹے چھوٹے لمحات کا استعمال کر سکتے ہیں؟

خود کو محدود کرنا:
جب زندگی مشکل ہوتی ہے آخری کام جو کرتے ہیں وہ چاروں طرف بھاگنا ،ہر ایک چیز کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا جو کہ اتنا ضروری نہیں ہوتا جب کہ ہمیں جلدی کے وقت جو ہمارے سامنے موجود ہوتی ہے ۔ اپنے عزائم اوروعدوں کو کم کریں حتی کہ آپ کو واپس پیچھے جانا پڑے اور کسی دعوت چھوڑنا پڑے اور خود کو آرام دہ سانس لینے یا دم لینے دیں۔

امداد کا حصول :
ڈاکٹر کے پاس جانا،یا کسی معالج یا ایسے شخص جو کہ آپ کو بہتر طور پر سمجھتا ہو ۔اگر آپ تشویش یا ذہنی دباؤ کے جسمانی علامات کے حل کی کوشش کر رہے ہیں تو ایک ڈاکٹر یا تھراپسٹ آپ کی مدد کر سکتے ہیں۔ دوست کے ساتھ گفتگو بھی مدد کر سکتی ہے اور علاوہ ازیں یوگا اور Meditation بھی مدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔ آپ کوئی ایسا گروہ تلاش سکتے ہیں جو سہارا دے سکے ،کوئی دوست آپ کو کھانا لا کر دے سکتاہے یا آپ کے بچہ کا چند گھنٹے خیال رکھ سکتا ہے اور اس کے علاوہ کئی اورامداد جو کہ بظاہر دیکھائی نہ دے رہی ہوں۔آپ اگر کوشش کر رہے ہوں اپنی محنت ترک نہ کریں یہ کوشش کریں کہ اکثر کئی ذرائع یا امداد میسر کر سکتی ہے جو کہ آپ نے کبھی گمان بھی نہ کی ہو۔